لڑکیاں کیسے لائی جاتی ہیں؟ کراچی میں جسم فروشی کے نیٹ ورک کے ہولناک راز بے نقاب؛ دیکھیں مکمل ڈاکومینٹری

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ایم ایم نیوز نے اپنے ایک تحقیقاتی پوڈکاسٹ میں کراچی میں سرگرم جسم فروشی کے نیٹ ورک پر سے پردہ اٹھاتے ہوئے ایسے چشم کشا اور حیران کن حقائق سامنے رکھ دیئے ہیں جنہوں نے سماجی حلقوں میں تشویش کی نئی لہر پیدا کر دی ہے۔

تحقیقاتی ڈاکیومنٹری اینکر فراز احمد کی میزبانی میں پیش کی گئی جس میں پاکستان میں جسم فروشی کے غیر قانونی اور منظم نیٹ ورک، اس کے پس پردہ عوامل اور معاشرے پر اس کے گہرے اثرات کو تفصیل سے اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو درپیش مشکلات اور اس پورے نظام کی پیچیدگیوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

خواتین کی مبینہ اسمگلنگ اور استحصال کے انکشافات

رپورٹ میں ایک سابق دلال نے بتایا گیا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے لڑکیوں کو کراچی لایا جاتا ہے جہاں انہیں ابتدا میں سادہ لوح یا دیہی طرزِ زندگی کی صورت میں رکھا جاتا ہے بعد ازاں انہیں گروم کر کے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

دلال نے مزید بتایا کہ بعض کیسز میں گھریلو ملازمت کے بہانے لڑکیوں کو دیگر صوبوں سے لایا جاتا ہے جہاں انہیں لالچ، دباؤ یا دھوکے کے ذریعے اس غیر قانونی سرگرمی میں دھکیلا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کچھ متاثرہ خواتین خوف کے باعث پولیس سے رجوع بھی کرتی ہیں۔

بڑے شہروں میں پھیلا ہوا نیٹ ورک

دلالوں کے مطابق ملک کے آٹھ بڑے شہروں میں مبینہ طور پر ہزاروں خواتین اس دھندے سے وابستہ ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق یہ تعداد 34 ہزار سے بھی زائد بتائی جاتی ہے جبکہ کراچی کو اس نیٹ ورک کا مرکزی حب قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ متاثرہ خواتین میں سے کئی کو دھوکے، جذباتی تعلق یا معاشی مجبوریوں کے ذریعے اس دائرے میں لایا جاتا ہے جبکہ بعض کیسز میں اغوا کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ کچھ خواتین مالی مشکلات کے باعث خود اس راستے کا انتخاب کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔

پوش علاقوں سے غریب آبادیوں تک پھیلا ہوا دھندا

انکشافات کے مطابق کراچی کے پوش علاقوں جیسے کلفٹن، ڈیفنس اور گلستانِ جوہر کے ساتھ ساتھ کورنگی اور لانڈھی جیسے علاقوں میں بھی یہ سرگرمیاں مبینہ طور پر جاری ہیں جہاں ریٹس اور نوعیت مختلف بتائی گئی ہے۔

پوڈ کاسٹ میں مزید بتایا گیا کہ بعض کالجز اور یونیورسٹیوں کی طالبات نشے یا مالی دباؤ کی وجہ سے اس سرگرمی میں ملوث ہو جاتی ہیں جبکہ گیسٹ ہاؤسز کے ذریعے بھی اس نیٹ ورک کے چلنے کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا کردار

اینکر فراز احمد کے مطابق اب یہ غیر قانونی سرگرمی صرف روایتی طریقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک پھیل چکی ہے جہاں سوشل میڈیا ایپس جیسے فیس بک، واٹس ایپ اور انسٹاگرام کے ذریعے رابطے کیے جاتے ہیں۔ ان پلیٹ فارمز پر مبینہ طور پر تصاویر اور رابطہ نمبرز بھی دستیاب ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ بعض اوقات کم عمر یا نوخیز لڑکیوں کے لیے زیادہ قیمت مقرر کی جاتی ہے اور مختلف درخواستوں کے مطابق انہیں مخصوص مقامات یا ہوٹلوں میں بھی بھیجا جاتا ہے۔

منظم نیٹ ورک اور ادارہ جاتی چیلنجز

رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ یہ پورا نظام ایک منظم نیٹ ورک کے تحت چلتا ہے جس میں دلال، خفیہ اڈے اور مبینہ طور پر بعض بااثر افراد بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ کچھ ذرائع کے مطابق رشوت اور اثر و رسوخ کے ذریعے اس نیٹ ورک کو تحفظ دینے کے الزامات بھی پائے جاتے ہیں۔

معاشرتی عوامل اور ماہرین کی رائے

تحقیق کے مطابق غربت، تعلیم کی کمی، خاندانی مسائل اور جذباتی استحصال اس مسئلے کے بنیادی اسباب ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق پاکستان میں لاکھوں خواتین کسی نہ کسی صورت میں اس غیر قانونی سرگرمی سے متاثر ہیں۔

کراچی کی تاریک حقیقت پر سوالیہ نشان

رپورٹ کے اختتامی حصے میں کہا گیا کہ کراچی جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا ہے اس کے پس پردہ ایک تاریک اور تلخ حقیقت بھی موجود ہے جہاں معاشرتی دباؤ اور نظامی خامیوں نے کئی زندگیاں متاثر کی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے سخت قانون سازی، مؤثر نفاذ، اور متاثرہ خواتین کی بحالی کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

چشم کشا تحقیقاتی ڈاکیومنٹری کو مکمل طور پر یہاں دیکھیں اور کراچی کے اس خفیہ نیٹ ورک کی اصل حقیقت سے آگاہ ہوں۔

Related Posts