نامور دانشور، کالم نگار، ادیب اور صحافی حسن نثار کے بڑے بیٹے شہپر نثار کی زندگی ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہے، جہاں ذاتی فیصلے، خاندانی ٹوٹ پھوٹ اور آزادی کے غلط استعمال کی کہانی ایک سبق بن کر سامنے آتی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق حسن نثار کی پہلی شادی سے دو بیٹے، شہپر اور اظفر تھے۔ دونوں ابھی کم عمر ہی تھے کہ والدین کے درمیان علیحدگی ہو گئی۔ بعد ازاں حسن نثار اور ان کی سابقہ اہلیہ، دونوں نے دوسری شادیاں کر لیں۔ سوتیلا باپ اور سوتیلی ماں، ظاہر ہے، حقیقی ماں باپ کا نعم البدل ثابت نہ ہو سکے، اور یہی وہ خلا تھا جس نے بچوں کی نفسیات پر گہرے اثرات ڈالے۔
علیحدگی کے باوجود حسن نثار نے کبھی بیٹوں کی مالی ذمہ داری سے کنارہ کشی نہیں کی۔ خرچہ بھی دیتے رہے اور وقت آنے پر سہارا بھی بنے۔ بڑے بیٹے شہپر جب جوان ہوئے تو حسن نثار نے اپنی ساکھ استعمال کرتے ہوئے انہیں معروف میڈیا گروپ دی نیوز میں ملازمت دلوائی۔ تاہم کم تنخواہ کو جواز بنا کر شہپر نے چند ہی ماہ میں نوکری چھوڑ دی۔
اسی دوران قسمت نے ایک اور دروازہ کھولا۔ اپنی قابلیت کے بل پر شہپر دبئی میں ایک اچھے ادارے میں ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ وہ موڑ تھا جہاں وہ اپنی زندگی سنوار سکتے تھے، مگر کہانی نے یہاں سے رخ بدل لیا۔ نوکری کے ساتھ ملنے والی آزاد زندگی، نائٹ کلبز، شراب نوشی، لڑکیوں سے تعلقات اور کیسینو کلچر نے شہپر کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔ آمدن ہوتی رہی مگر بچت صفر رہی، سب کچھ عیاشیوں کی نذر ہوتا گیا۔
اسی دوران لاہور میں ایک لڑکی سے شادی کی خواہش ظاہر کی گئی۔ حسن نثار خود لڑکی کے والدین سے ملے، رشتہ طے پایا اور نکاح بھی ہو گیا۔ مگر شادی کے بعد دبئی واپس جا کر بھی شہپر کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی نہ آ سکی۔ چند ہی برسوں میں نوکری بھی ختم ہو گئی اور وہ دبئی میں آوارہ گردی کی زندگی گزارنے لگے۔ نتیجتاً لڑکی والوں نے کوشش کر کے طلاق حاصل کر لی۔
ان مشکل دنوں میں بھی حسن نثار نے بیٹے سے رابطہ نہیں توڑا۔ دبئی جا کر ملاقات کی، سمجھانے کی کوشش کی، یہاں تک کہ ایک بینک کا قرض اتارنے کی پیشکش بھی کی۔ مگر نشے کی حالت میں شہپر نے مدد لینے سے انکار کر دیا، البتہ خرچ کے لیے ایک ہزار ڈالر مانگ لیے، جو والد نے دے دیے۔
بعد ازاں ہوش آیا تو احساس ہوا کہ بڑی غلطی ہو چکی ہے۔ حسن نثار نے بیٹے کو پاکستان واپس آنے کا مشورہ دیا اور نوکری دلوانے کا وعدہ بھی کیا۔ شہپر چند ماہ بعد پاکستان تو آ گئے، مگر یہاں نہ وہ سہولیات تھیں، نہ پیسہ، اور نہ وہ طرزِ زندگی جس کے وہ عادی ہو چکے تھے۔
اسی دوران شہپر مختلف یوٹیوب چینلز اور میڈیا پلیٹ فارمز پر انٹرویوز دیتے نظر آئے، جہاں ناقدین کے مطابق انہوں نے والد پر دباؤ ڈالنے اور بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ یہ واضح نہیں کہ اس کے بعد بھی حسن نثار نے کتنی مالی مدد کی، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر شہپر درست راستہ اختیار کرتے تو زندگی بدل سکتے تھے۔
آج صورتحال یہ بتائی جاتی ہے کہ شہپر یا تو ادھار اور مانگ تانگ کر گزارہ کر رہے ہیں یا سوتیلے والد کسی حد تک سہارا دے رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس پوری کہانی میں قصور وار کون ہے؟ کیا والدین کی علیحدگی نے بنیاد رکھی؟ یا پھر آزادی، غلط صحبت اور ذاتی فیصلوں نے انجام لکھا؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








