پاک فضائیہ کے بمبار طیاروں نے ہفتہ کی رات قندھار میں طالبان امیر ملا ہبتاللہ کے خصوصی دستے کے کمانڈ سینٹر کو بمباری کا نشانہ بنایا۔ یہ خصوصی دستہ سات ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے۔
افغان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق اس دستے میں سے 1200 افراد صرف ملا ہبتاللہ کی حفاظت کے لیے مختص ہیں۔ یہ یونٹ طالبان کے دیگر دستوں کے مقابلے میں زیادہ جدید امریکی ہتھیاروں سے لیس ہے۔
ہفتہ کی رات پاک فضائیہ کے طیاروں نے ملا ہبتاللہ کے خصوصی دستے کو قندھار شہر کے تیرہویں ضلع کے اردگرد بمباری کا نشانہ بنایا۔ مقامی باشندوں کے مطابق دھماکے کی آواز بہت شدید تھی اور دور دراز علاقوں میں بھی سنی گئی۔
اس فضائی حملے کے بعد قندھار شہر کے پوش علاقے عینومینہ میں بھی طالبان کے ایک اور مرکز پر حملہ کیا گیا۔ ماضی میں قندھار کے اس پوش علاقے میں کالعدم بی ایل اے کے محفوظ ٹھکانے بھی موجود رہے ہیں۔
ملا ہبتاللہ کا خصوصی دستہ
طالبان اپنے امیر کے اس خصوصی حفاظتی دستے کو “عمری یونٹ” کے نام سے جانتے ہیں اور یہ قندھار شہر کے شمال میں میانکو پہاڑی سلسلے میں واقع مرکز میں تعینات ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دستے کا مرکز سابق طالبان رہنما ملا محمد عمر کا گھر تھا، جو اب “ملا صاحب سرای” کے نام سے مشہور ہے اور فی الحال ملا ہبتاللہ کے خصوصی دستے کی موجودگی وہاں ہے۔
اس دستے کا کمانڈر ہبتاللہ کے قریبی افراد میں سے ملا عبدالاحد المعروف “طالب مولوی” ہے۔
یہ دستہ افغانستان کے کئی صوبوں میں، بشمول کابل، ننگرہار، پکتیا، لوگر، قندوز، بدخشان، پنجشیر اور نیمروز میں شاخیں رکھتا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ دستہ نہ صرف ملا ہبتاللہ کی حفاظت کرتا ہے بلکہ داعش کے خلاف خصوصی آپریشنز کی قیادت بھی انجام دیتا ہے۔
طالبان کے دیگر محکموں، جیسے وزارت دفاع اور داخلہ کے مقابلے میں، ملا ہبتاللہ کے اس خصوصی دستے کو زیادہ وسائل فراہم کیے گئے ہیں۔
اس مقام پر پہلے سابقہ حکومت کے تحت دستہ 03 موجود تھا۔ سابق اراکین نے افغانستان انٹرنیشنل کو بتایا کہ جمہوری دور میں “ملا صاحب سرای” میں خصوصی دستے کے علاوہ امریکی خفیہ ایجنسی کے جنوبی ایشیا کے شعبے کی موجودگی بھی تھی۔
طالبان کے مطابق طالبان کی اقتدار میں واپسی کے بعد سابق دستہ 03 کا سارا جدید فوجی ساز و سامان ملا ہبتاللہ کے خصوصی دستے کو فراہم کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق “ملا ہبتاللہ کے سب سے قریب ترین علاقہ یہی دستہ ہے، جہاں چند منٹ میں پہنچا جا سکتا ہے۔ اس دستے کے پاس امریکی فوجی کے باقی رہ جانے والے ہتھیار اور ساز و سامان موجود ہیں، جو ممکن ہے کہ دیگر طالبان یونٹس میں دستیاب نہ ہوں۔”
اس دستے کا ملا ہبتاللہ کے رہائش گاہ سے فاصلہ صرف تقریباً پانچ کلومیٹر ہے۔
کچھ طالبان ذرائع نے افغانستان انٹرنیشنل کو بتایا کہ پاکستان کے حملے کے بعد قندھار میں تمام طالبان کو “اولین ڈگری کی کال” یعنی فوری رپورٹ ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








