12 اپریل کی رات ایرانی وفد کے دورۂ اسلام آباد کے دوران ایک غیر معمولی صورتحال نے جنم لیا، جب ایران کے وزیرِ خارجہ نے مبینہ طور پر پاکستان سے اپنے واپسی کے سفر کے دوران سکیورٹی خدشات کا اظہار کیا۔
ذرائع کے مطابق ایرانی وزیرِ خارجہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ تہران واپسی کے دوران ان کے طیارے کو اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر پاکستان ایئر فورس کی جانب سے ایک خصوصی حفاظتی انتظام کیا گیا، جس میں دو درجن کے قریب جدید لڑاکا طیارے جن میں جے-10 سی طیارے بھی شامل تھے، مبینہ طور پر فضائی سکیورٹی کے لیے تعینات کیے گئے۔
اطلاعات کے مطابق AWACS طیارے نے بھی پورے فضائی روٹ کی مسلسل نگرانی کی تاکہ کوئی اسرائیلی طیارہ قریب بھی نہ پھٹک سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی وفد کے طیارے کو اسلام آباد سے تہران تک محفوظ فضائی حصار میں روانہ کیا گیا۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اس نوعیت کا فضائی حفاظتی مشن اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا، جس میں کسی غیر ملکی وفد کی مکمل فضائی حفاظت کے لیے اس پیمانے پر اقدامات کیے گئے ہوں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








