امریکا میں آج سانحہ نائن الیون کی 20 ویں برسی منائی جارہی ہے، 11ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ٹکرانے والے جہازوں نے جہاں امریکا میں ہزاروں زندگیاں چھین لیں وہیں اس آگ کے شعلوں نے پوری دنیا میں کشت و خون کا ایک ایسا کھیلا شروع کیا جس میں لاکھوں زندگیاں تباہ اور کھربوں روپیہ ضائع ہوا اور پوری دنیا کا نقشہ بدل گیا۔
نائن الیون سانحہ 11 ستمبر 2001ء ایک یادگار تاریخ گیارہ ستمبر سال 2001ء کو ہونے والا اِیک حادثہ ہے۔ یہ حادثہ ریاست ہائے متحدہ امریکا کے ایک شہر نیویارک میں دن کے وقت پیش آیا تھا اِس حادثے میں چار مسافر بردار طیارے اغواء کرکے امریکی سرمایہ دارانہ برتری کی علامت ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا دیے گئے جن کی سو سے زیادہ منزلیں تھیں۔
اِس حادثے کے نتیجے میں یہ عمارتیں مکمل زمین بوس ہو گئیں اور ہزاروں لوگ جان سے گئے۔ یہ واقعہ دہشت گردی سے منسوب ہے۔س واقعہ کا ذمہ دار مکمل طور پر اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا جاتا ہے اور کہا جاتاہے کہ وہ افغانستان میں موجود اِک دہشت گردتنظیم القاعدہ کا سربراہ تھا۔اس دہشت گردی واقعہ کو امریکیوں نے ائن الیون کا نام دیا۔
سانحہ 11 ستمبر 2001ء صبح قریباً آٹھ بجے یہ حادثات پے در پے رونما ہوئے ۔ پہلے ایک مسافر بردار بوئنگ طیارہ 757 نیو یارک کے 110 منزلہ ٹاور سے ٹکرایا اس کے اٹھارہ منٹ بعد ہی دوسرا بوئنگ 757 بھی دوسرے ٹاور سے ٹکرا گیا۔
دو مسافر ہوائی جہاز نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی بلند و بالا عمارتوں سے ٹکرا گئے جن سے یہ عمارتیں منہدم ہو گئیں۔ اس کےٹھیک ایک گھنٹے بعد ایک اور اغوا شدہ مسافر جہاز بوئنگ 757 بھی امریکی محکمہ دفاع کے ہیڈ کوارٹر پنٹا گان پر گرایا گیا جس سے پنٹا گان جزوی طور پر تباہ ہو گیا۔
آدھے گھنٹے بعد ایک اور جہاز کے متعلق خبر آئی کہ جسے اغوا کر کے وائٹ ہاؤس کی طرف لے جایا جا رہا تھا یہ بھی بوئنگ 757 تھا جسے پنسلوانیا کے مقام پر لڑاکا طیاروں کے ذریعے مار گرایا گیا ۔
نقصانات ورلڈ ٹریڈ سینٹر پراس حملے میں 2977 انسانی جانوں کا نقصان ہوا۔ اس کے ساتھ ہی امریکا اور اس کے حامیوں کو مالی بحران کا شکار ہونا پڑا ۔ حملوں کی اطلاع عام ہوتے ہی عالمی منڈی میں تیل اور سونے کی قیمتوں میں فوری اضافہ ہو گیا اور یورپی کرنسی یورو کے مقابلے میں ڈالر کر نقصان پہنچا۔
لندن کی مارکیٹ میں اگلے ماہ یعنی اکتوبر کے لیے تیل کی قیمتيں 27۔26 ڈالر سے بڑھ کر 30 اعشاریہ دس ڈالر تک جا پہنچیں جب کہ نیو یارک میں تیل کی مارکیٹ حملوں کی اطلاع کے ساتھ ہی بند ہوگئی ۔دنیا بھر کی مالیاتی منڈیاں افراتفری کا شکار ہوگئیں۔
دنیا کا سب سے بڑا اسٹاک ایکسچینج نیویارک بند کر دیا گیا ۔ برطانیہ میں لندن اسٹاک ایکسچینج کو خالی کرا لیا گیا ۔ جرمنی ، پیرس ، ٹوکیو ، بون اور ماسکو وغیرہ کی مارکیٹوں میں بھاری خسارہ ہوا۔
حملے کے محرکات حملے کے لیے القاعدہ نے کئی سال پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی ۔ جس کا نتیجہ بالآخر 11 ستمبر 2001 کو نظر آیا ۔افغانستان میں خانہ جنگی کے اثرات کسی حد تک کم ہو جانے کے نتیجے میں القاعدہ نے اپنے مقاصد کا رخ امریکا کی طرف کیا جس کے لیے اسے کسی بڑے ہلچل کی ضرورت تھی۔
القاعدہ نے گیارہ ستمبر کے حملوں کے لیے انتہائی شدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا بلکہ چھوٹے موٹے حملوں کا سلسلہ بھی جاری رہا جس میں سات جولائی لندن حملہ ، میڈرڈ بم دھماکا اور بالی بم دھماکے قابل ذکر ہیں ۔
دنیا پر اثرات امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے پہلے تو اس واقعے کا الزام القاعدہ پر لگایالیکن بعد ازاں افغانستان پر حملے کے بعد اسامہ بن لادن کے اعتراف گفتگو پر مبنی ویڈیو ٹیپ سے اس بات کا ثبوت بھی مل گیا ۔اس سانحے کے بعد پوری دنیا کی ہمدردی اس وقت امریکا کے ساتھ ہوگئی اورامریکی مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی گئی۔
القاعدہ اور شدت مسلمانوں کی تلاش میں امریکی ایجنسیوں کی طرف مسلمان شہریوں کو تفتیشی مقاصد کے تحت اٹھانے کا سلسلہ شروع ہوا جسے بعد ازاں قانون سازی کے ذریعے مزید تقویت دی گئی اوران اندوہناک ہلاکتوں نے امریکا کو پوری دنیا پر جنگ مسلط کرنے کا بہترین موقع دیاجس کے لیے سب سے پہلے نشانہ افغانستان بنا ۔
افغان جنگ اور پاکستان سانحے کے مرکزی ذمہ دار اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے لیے امریکا نے افغانستان کا رخ کیا تاہم طالبان کی جانب سے القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی حوالگی سے انکار پرامریکا نے افغانستان پر تین اطراف سے حملہ کر دیا اور چند ہی دنوں میں افغانستان سے طالبان حکومت کا خاتمہ کر ڈالا۔
افغانستان حملے کے لیے سب سے زیادہ قربانی کا بکراپاکستان کو بنایا گیا جس کی قیمت پاکستان آج بھی ادا کر رہا ہے۔ افغانستان پر حملے کے بعد امریکا نے عراق کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا جبکہ شام بھی امریکا کے جنگی عزائم کی لپیٹ میں آگیا۔
امریکا میں سختیاں سانحہ نائن الیون کے بعد امریکا میں فضائی سفر تبدیل ہوگیا، پہلے بھی سیکورٹی اور جانچ پڑتال کا عمل ہوتا تھا لیکن دخل اندازی کی کیفیت نہ تھی۔ چیک پوائنٹ پر لمبی قطاریں نہیں لگتی تھیں، مسافروں کو اہل خانہ، دوست احباب گیٹ تک چھوڑنے آتے تھے۔
ورلڈ ٹریڈ سینٹر ٹاورز، پنٹاگون اور پنسلوانیامیں چار اغواء شدہ طیاروں کے ٹکرانے کے بعد تمام سہولتیں اور آزادیاں سلب کرلی گئیں۔ واقعہ کے دو ماہ بعد اس وقت صدر جارج بش نے ٹرانسپورٹیشن سیکورٹی ایڈمنسٹریشن کے قیام کے لئے دستور سازی کی منظوری دی۔ جس نے نجی سیکورٹی کمپنیوں کی جگہ لے لی اس کے بعد سے طیاروں سے سفریکسر تبدیل ہو کر رہ گیا۔
حکومتی اقدامات امریکا میں سانحہ نائن الیون کے پانچ مرکزی ملزموں کیخلاف قبل از مقدمہ کی کارروائی ایک بار پھر گوانتا ناموبے جیل میں فوجی عدالت نے شروع کر دی،قبل از مقد مہ کارروائی کوروناسمیت متعدد وجوہات کی بناء پر تعطل کا شکار تھی۔
القاعدہ سے تعلق رکھنے والے ملزمان طویل عرصہ سے اسی جیل میں قید ہیں جن میں نائن الیون سانحہ کا مبینہ ماسٹر مائنڈ 56 سالہ پاکستانی خالد شیخ محمد بھی شامل ہے جبکہ دیگر چارملزمان عمار بلوچی، ولید بن اتاش، مزی بن الشبیہ اورمصطفی ا حمد الہوساوی ہیں۔ ان میں سے عمار خالد شیخ کا بھانجا ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے عافیہ صد یقی نے جب وہ امریکہ سے فرار ہو کر کراچی آئی تھی تو اس سے دوسرا نکاح کیا تھا۔
دستاویزات جاری کرنے کا حکم امریکی صدر جو بائیڈن سانحہ نائن الیون سے متعلق دستاویزات 6 ماہ میں جاری کرنے کا حکم دے چکے ہیں،سانحہ کے متاثرین اور ہلاک افراد کے ورثا سمیت سیکڑوں افراد نے امریکی صدر سے ’ڈاکیومنٹس ڈی کلاسیفائی‘ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ الیکشن مہم میں نائن الیون سے متعلق دستاویزات عام کرنےکا وعدہ کیا تھا۔ سانحہ کی 20ویں برسی سے قبل اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیئے ہیں۔
امن کی ضرورت امریکا میں ہونیوالے حملوں کے حقائق آج تک دنیا سے پوشیدہ ہیں، ایک رائے یہ ہے کہ حملے خود امریکا نے کروائے جبکہ امریکا محکمہ دفاع کے اعداد وشمار بھی کئی سوالات کا جنم دیتے ہیں تاہم حقیقت یہ ہے کہ سانحہ نائن الیون اور اس کے بعد لاکھوں بے گناہ انسانوں کی جانیں گئیں تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ آج افغانستان میں جنگ ختم ہوچکی ہے اور پاکستان بھی اس دودہائیوں پر مشتمل آگ کے کھیل سے کسی حد تک نکل چکا ہے ۔
اس وقت دنیا ایک بار پھر امن کی طرف جارہی ہے اور قابل ذکر بات تو یہ ہے کہ افغانستان میں قائم ہونیوالی نئی حکومت نے آج سانحہ نائن الیون کی برسی کی وجہ سے تقریب حلف برداری ملتوی کرکے دنیا کو ایک مثبت پیغام دیا ہے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ آگ اور خون کے اس کھیل کا اختتام کرکے امن کی راہ ہموار کی جائے۔