سوال: اگر کوئی آدمی کینیڈا یا امریکہ میں رہتا ہو اور وہ قربانی پاکستان میں کرنا چاہتا ہو تو اس کے کیا اصول ہیں؟ کیا شرعا اس میں کوئی قباحت ہے؟
نیز وہاں کے آمدن اور پاکستان میں قربانی کی قیمتوں میں فرق ہوتا ہے تو قربانی وہاں کے آمدن کے حساب سے کرنی ہوگی یا پاکستانی قیمتوں کے حساب سے کرنی ہوگی؟
جواب: 1) دوسرے ملک میں رقم بھیج کر قربانی کرنا جائز ہے، البتہ اس میں دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:
١) دونوں ملکوں میں قربانی کے جو ایام مشترکہ ہوں، ان ایام میں قربانی کی جائے، اگر کسی ایک ملک میں بھی قربانی کا دن نہیں ہوگا، تو قربانی ادا نہیں ہوگی۔
مثلا: بیرون ملک 10 ذی الحجہ ہو اور پاکستان میں 9 ذی الحجہ ہو، تو اس دن قربانی ادا نہیں ہوگی اور اگر بیرون ملک میں 10 ذی الحجہ ہو، پاکستان میں 11 ذی الحجہ ہو، تو چونکہ یہ دن دونوں ملکوں میں قربانی کا مشترکہ دن ہے، لہذا اس دن قربانی جائز ہوگی۔
٢) جس جگہ قربانی کی جا رہی ہے، اگر وہاں عید کی نماز ہوتی ہو( یعنی وہ شہر ہو، گاؤں دیہات نہ ہو) تو اس جگہ عید کی نماز ہونے کے بعد قربانی کی جائے، البتہ اگر شہر میں مساجد کے نمازِ عید کے اوقات مختلف ہوں، تو سب سے پہلے جہاں عید کی نماز ہوتی ہو، اس کا اعتبار ہوگا، وہاں نماز ہو جانے کے بعد قربانی کی جا سکتی ہے۔
2) چونکہ صاحب نصاب پر ایک قربانی کرنا واجب ہے، یعنی ایک چھوٹا جانور یا بڑے جانور میں ایک ساتواں حصہ، پھر چاہے وہ قربانی کہیں بھی کی جائے، قربانی ادا ہو جائے گی، اسے یہ اختیار ہوگا کہ وہ جہاں رہتا ہے، وہاں کی قیمت کا اعتبار کر کے قربانی کرے یا جس ملک میں قربانی کرنا چاہتا ہے، وہاں کی مقامی قیمت کے اعتبار سے قربانی کرے، مقصود قربانی کرنا ہے، خواہ دونوں ملکوں میں قیمت کا فرق ہو، تب بھی قربانی ادا ہو جائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








