کراچی میں مقیم ماڈل واداکارہ حمیرا اصغر کی زندگی کا اختتام ایک افسوسناک پہلو کے ساتھ سامنے آیا جہاں ان کی لاش اسپتال میں کئی روز سے بے یار و مددگار پڑی ہے اور ابھی تک کوئی اہل خانہ، قریبی رشتہ دار یا کوئی دوست وصول کرنے نہیں آیا۔
حمیرا اصغر جو ایک وقت میں پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا روشن چہرہ سمجھی جاتی تھیں، کافی عرصہ سے منظر عام سے غائب تھیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ حمیرا نے اپنے آخری انٹرویوز میں کئی بار اس بات پر زور دیا تھا کہ وہ کراچی میں تنہا ضرور رہتی ہیں لیکن اپنی والدہ اور خاندان سے ان کا رابطہ کبھی نہیں ٹوٹا۔
کراچی میں رہتی ہوں لیکن فیملی سے تعلق بہت مضبوط ہے، مہینہ گھر نہ بھی جاؤں تو والدہ سے فون پر رابطہ رہتا ہے، حمیرا اصغر کا ایک انٹرویو جب کہ ابھی تک ان کی لاش وصول کرنے کوئی نہیں آیا pic.twitter.com/8BokYPLIdn
— Muqadas Farooq Awan (@muqadasawann) July 9, 2025
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ میری فیملی لاہور میں ہے، مہینے دو مہینے نہ بھی جاؤں تو امی سے روز فون پر بات ضرور ہوتی ہے۔ ہم ایک دوسرے سے بہت جڑے ہوئے ہیں۔
ان کے انتقال کے بعدصورتحال اس دعوے کے برعکس دکھائی دے رہی ہے۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود کوئی فرد ان کی لاش لینے نہیں آیا۔
اس المناک صورتحال نے شوبز انڈسٹری، سوشل میڈیا صارفین اور انسانی ہمدردی کے حلقوں میں شدید افسوس حیرت اور سوالات کو جنم دیا ہے کہ کیا یہ وہی خاندان ہے جس سے وہ جڑی ہوئی تھیں؟کیا غربت، ذہنی دباؤ اور تنہائی نے انہیں مکمل طور پر تنہا کر دیا تھا؟ یا پھر معاشرے کا وہ بے حس رویہ سامنے آیا ہے جو اکثر کمزور لمحوں میں “مشہور شخصیات” کو بھی اکیلا چھوڑ دیتا ہے؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








