غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی فضائی حملوں نے منگل کے روز تک کم از کم 100 فلسطینیوں کی جان لے لی ہے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ طبی ذرائع کے مطابق، یہ حملے پیر کی صبح سے شروع ہوئے اور اب تک شدت سے جاری ہیں۔
ابتدائی رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 32 بتائی گئی تھی، جو وقت کے ساتھ بڑھ کر 88 اور پھر 100 سے زائد ہو گئی۔ یہ حملے غزہ کے شمالی، جنوبی اور مشرقی علاقوں بشمول خان یونس، رفح، التفاح اور الشجاعیہ میں کیے گئے۔
رفح میں امدادی سامان کی تقسیم کے مقام الشاکوش کے قریب فائرنگ سے دو افراد جاں بحق اور نو زخمی ہوئے۔ اسی طرح، النصیرات کیمپ کے قریب پانی بھرنے والی ایک گاڑی پر میزائل حملے میں ایک شہری ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ خان یونس کے مشرقی علاقے سے تین لاشیں ملبے سے نکالی گئیں، جبکہ غزہ شہر کے مشرقی علاقے میں چار افراد جاں بحق ہوئے۔
فوجی ذرائع کے مطابق، اسرائیلی افواج نے الشجاعیہ محلے میں ایک بارودی روبوٹ بھی استعمال کیا، جبکہ غزہ کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔
یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ قطر، مصر اور امریکا کی ثالثی میں دوحہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوئے ہیں، جن کا مقصد جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ طے کرنا ہے۔ تاہم، گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہوئے۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے جاری تنازع میں اب تک 58,000 سے زائد افراد شہید اور 1,38,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ غزہ کی پٹی شدید انسانی بحران سے دوچار ہے، جہاں محاصرے اور بنیادی ضروریات کی قلت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








