جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ مہنگائی سمیت ملک کو بحرانوں سے نکالنا سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے، آٹا سمیت ہوشربا مہنگائی نے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو قرضے نہیں امن و روزگار کی ضرورت ہے، کیونکہ قرضوں سے حکمران ٹولہ عیاشیاں اور قوم کی نسلیں مقروض بن جاتیں ہیں، نجات کا واحد حل شریعت کا نظام اور دیانتدار قیادت کا انتخاب ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کی ہنگامہ آرائی، لیگی ارکان اور سکیورٹی اسٹاف میں تلخ کلامی
اپنے ایک بیان میں محمد حسین محنتی نے کہا کہ اقتدار و سیاسی رسہ کشی میں حکمرانوں کو سیلاب متاثرین کو بھلا دیا ہے، سیلاب کو 6 ماہ گذر گئے، مگر حکومت نے زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ بھی نہیں کیا، آج بھی نوے ہزار سے زائد سیلاب متاثرین بے یار و مددگار اور کھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔
محمد حسین محنتی نے کہا کہ عالمی ادارے یونیسف نے بھی خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں ہنگامی حالت کے اعلان کے چار ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی تقریباً 40 لاکھ بچے اب بھی کھڑے آلودہ سیلابی پانی کے قریب زندگی گزار رہے ہیں، جس سے ان کی بقا اور فلاح و بہبود کو خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور موسم سرما کی صورتحال نے ان غریبوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، مگر ارب پتی حکمراں ٹولہ بے حسی کی عملی تصویر بنا ہوا ہے، اپنی دولت سیلاب متاثرین پر خرچ کرنے کی بجائے بیرون ملک امداد مانگ کر اپنی دولت میں مزید اضافہ کرنے میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اور الخدمت کے ہزاروں رضاکار متاثرین کی ریسکیو، ریلیف کے بعد بحالی کے کاموں میں مصروف عمل ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








