خود کو ایک روایتی سیاستدان نہیں سمجھتی، صائمہ ندیم

تازہ ترین

تازہ ترین

خود کو ایک روایتی سیاستدان نہیں سمجھتی، صائمہ ندیم
خود کو ایک روایتی سیاستدان نہیں سمجھتی، صائمہ ندیم

پاکستان کے پدرانہ معاشرتی نظام میں جہاں سیاست میں خواتین کو بہت کم جگہ ملتی ہے وہاں صائمہ ندیم نے اپنی خدا داد صلاحیتوں سے نمایاں مقام حاصل کرچکی ہیں، کراچی میں پاکستان تحریک انصاف کی خواتین کو ہمہ وقت متحرک رکھنے اور 13 اگست 2018ء کو حلف کے ساتھ انسانیت کی خدمت کا علم بلند کرنے والی نڈر اور بے باک صائمہ ندیم کے ساتھ ایم ایم نیوز نے ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا جس کا احوال نذر قارئین ہے۔

ایم ایم نیوز: رکن قومی اسمبلی کے طور پرروز مرہ معمولات کیا ہیں؟
صائمہ ندیم: ایک رکن قومی اسمبلی کا کام عوامی مسائل کی نشاندہی کرنا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ قائمہ کمیٹی کے ایجنڈے پر مختلف قوانین کیلئے کام بھی ذمہ داریوں کا حصہ ہے ، میں بین الصوبائی رابطہ کی وزارت کی وفاقی پارلیمانی سیکریٹری بھی ہوں اورپارلیمنٹ میں اپنی وزارت کے دفاع کیلئے اپنا کردار اور کام کومزید نکھارنے کی کوشش کرتی ہوں۔
مجھے براہ راست ہماری وزارت کے تحت اٹھائے جانے والے موجودہ اقدامات کے حوالے سے باخبر رہنا پڑتا ہے ، اس کے علاوہ میرے دفتر کا کام ان تنظیموں کے بعد ہونے والے اجلاسوں یا پروگراموں میں شرکت سے متعلق ہے۔کراچی میں حلقہ این اے 237 میں فلاحی کام اور حکومت یا پارٹی ترجمان کے طور پر ٹاک شوز یا عوامی فورمز اور کانفرنسوں میں حکومت کی نمائندگی کرنا ہوتی ہے۔

ایم ایم نیوز: آپ نے سیاست کا انتخاب کیوں کیا؟
صائمہ ندیم: میں اپنے آپ کو ایک عام سیاستدان نہیں سمجھتی ، میں یہاں انسانیت کی خدمت کرنے اور اپنے ملک میں تبدیلی کا خواب لیکر آئی ہوں اور پاکستان کی نئی نسل کو بہتر مستقبل دینا چاہتی ہوں۔

ایم ایم نیوز:آپ کس خاتون سے اور کیوں متاثر ہیں ؟
صائمہ ندیم: میری لئے انتہائی خوشی کی بات ہے کہ میں ایسی خاتون کے ساتھ کام کررہی ہوں جو قومی اسمبلی کی پہلی خاتون اسپیکر رہ چکی ہیں ،جنہوں نے بدین سے پانچ بار انتخاب لڑا اور بین الصوبائی رابطہ کی وزیر کے عہدے پر فائز ہونے سے پہلے بھی وزیر بھی رہ چکی ہیں ، میں فہمیدہ مرزا کو سیاسی میدان میں بطور سرپرست دیکھتی ہوں۔

ایم ایم نیوز:سیاست میں بطور خاتون کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
صائمہ ندیم: ہمارے ملک میں آج بھی خواتین کو سیاست میں بے شمار مشکلات کا سامنا ہے اور خواتین کو انتخاب لڑنے کا حق نہیں دیا جاتا، مردوں کے زیر دست معاشرے میں ایک عورت کو ایوان تک پہنچنے کیلئے سخت جدوجہد کرنا پڑتی ہے اور اگر وہ بہتر پوزیشن حاصل بھی کرلیتی ہے تو ہمیشہ ایک مستقل خوف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ایم ایم نیوز:آپ نے خواتین کیلئے کیا پالیسیاں بنائیں اور کیا مشکلات درپیش آئیں ؟
صائمہ ندیم: میں کورونا وائرس کی وباء کے بعد خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے ایک پالیسی بنانے کے لئے ایس ڈی جی کے ٹاسک فورس کی ممبر کی حیثیت سے کام کر رہی ہوں۔

ایم ایم نیوز:قومی اسمبلی میں آپ کیلئے سب سے یادگار لمحہ؟
صائمہ ندیم: قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف لینے کے بعد میں نے اوپر دیکھا تو اسمبلی کی چھت پر اللہ تعالیٰ کے 99 صفاتی نام درج تھے ،یہ سب سے یادگار لمحہ تھا جس نے میری روح کو چھو لیا اور مجھے احساس دلادیا کہ اب مجھے اللہ کی طرف سے ایک ٹاسک دیا گیا ہے اور مجھے انشاء اللہ اس کو پورا کرنا ہے۔

ایم ایم نیوز: پی ٹی آئی کا بہترین اثاثہ کون ہے اور کیوں؟
صائمہ ندیم: اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہمارے وزیر اعظم عمران خان ہیں جن کی وجہ سے ہم سب بدلے میں بغیر کسی توقع کے اپنی قوم کی خدمت کے لئے حاضر ہیں۔

ایم ایم نیوز: پاکستانی سیاست کو تین لفظوں میں بیان کریں؟
صائمہ ندیم: منافقت ، بے ایمانی اور بے دلی لیکن ہم روایتی سیاستدان نہیں ہیں۔ ہم یہ سب تبدیل کرنے کے لئے یہاں موجود ہیں ۔

ایم ایم نیوز: تین خصوصیات جو ہر رہنما میں ہونی چاہئیں؟
صائمہ ندیم: دیانت ، اچھا کردار اور ہمدردی کا جذبہ۔

ایم ایم نیوز: سیاست میں نئے آنیوالوں کو آپ کیا نصیحت کریں گی؟
صائمہ ندیم: ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ سیاست کمائی کا ذریعہ نہیں  ہے، عوام کی تکلیف کو محسوس کریں اور اپنی زندگی کو ایمانداری کے ساتھ خدمت کے ایک مقصد کیلئے وقف کردیں۔

Related Posts