آئس لینڈ میں آٹھ روزکے دوران 17000 زلزلے ریکارڈ

تازہ ترین

تازہ ترین

آئس لینڈ میں آٹھ روزکے دوران 17000 زلزلے ریکارڈ
آئس لینڈ میں آٹھ روزکے دوران 17000 زلزلے ریکارڈ

آئس لینڈ: آٹھ روز کے دوران آئس لینڈ میں اب تک ریکارڈ کیے گئے زلزلوں کی تعداد 17 ہزار سے تجاوز کر گئی۔ سب سے شدت کا زلزلہ 5.6 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ زلزلے آتش فشاں پہاڑ میں اندرونی تبدیلیوں کی وجہ سے رونما ہورہے ہیں۔

سب سے شدید زلزلہ 24 فروری کی صبح نمودار ہوا اور دارالحکومت رائک جے وِک کی عمارتیں لرز اٹھیں۔ اس کی شدت 5.6 تھی ۔ اس کے بعد بھی پانچ شدت کے زلزلے 27 اور یکم مارچ کو محسوس ہوئے۔ تاہم اس دوران چھوٹے بڑے زلزلے اور آفٹرشاکس بھی نوٹ کئے گئے ہیں۔

اب تک کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی تاہم بعض عمارتوں اور سڑکوں میں دراڑیں ضرور نوٹ کی گئی ہیں۔ تاہم رائک جے وِک کے لوگوں نے مسلسل 24 گھنٹے تک تھرتھراہٹ محسوس کی ہے۔ اس طرح وقفے وقفے سے زلزلوں کا دورانیہ پورے ہفتے برقرار رہا ہے۔

گرانڈوک نامی شہر کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ایک سال قبل بھی اسی طرح کے زلزلے نوٹ کئے گئے تھے لیکن اب ان کی شدت اور تعداد دونوں ہی بڑھ چکی ہے۔ یہاں تک کہ لوگ ان کی وجہ سے رات کو خوفزدہ ہوکر بیدار ہورہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کامیاب لینڈنگ کے بعد اسپیس ایکس کا اسٹار شپ راکٹ دھماکے سے تباہ ہوگیا

ماہرین کے مطابق ارضیاتی طور پر آئس لینڈ دو ٹیکٹونک پلیٹوں کے حاشیے پر واقع ہے۔ یہ پلیٹیں دھیرے دھیرے شمالی امریکہ اور یوریشیا کو ایک دوسرے سے دور لے جارہی ہیں اور ان کے درمیان کی لائن مڈ اٹلانٹک رِج کہلاتی ہے۔ اگرچہ یہاں کی ارضیاتی سرگرمیاں محض حساس آلات ہی نوٹ کرتے رہے لیکن اب لوگ بھی انہیں محسوس کررہے ہیں۔

آتش فشاں کا خطرہ

یونیورسٹی آف آئس لینڈ میں آتش فشانی عمل کے ماہر ڈاکٹر پوروالدر پارڈرسن کہتے ہیں کہ اس علاقے میں کئی آتش فشاں پہاڑ موجود ہیں۔ اب وہ کہہ رہے ہیں زمینی قشر میں کسی بھی وقت لاوا اور میگما آسکتا ہے اور آتش فشانی عمل شروع ہوسکتا ہے۔

آئس لینڈ کے مطابق یہاں دو پہاڑ ایسے ہیں جن کے نیچے آتش فشانی عمل جاری ہیں۔ ان کے نام ماؤنٹ کائلر اور ماؤنٹ فائگرج فال ہیں۔ انسانی ریکارڈ کے مطابق یہاں بارہویں صدی میں بھی آتش فشانی سرگرمی پیدا ہوئی تھی۔ تاہم آتش فشانی عمل میں فشرایرپشن ہوگا جس میں لاوا یا راکھ دھیرے دھیرے باہر نکلتی ہے۔ عموماً ہم آتش فشانی عمل کو خوفناک ڈرامائی انداز میں دیکھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔ تاہم آئس لینڈ میں شاید ایسا واقعہ پہلے رونما نہ ہوا۔

Related Posts