اگر آپ ان بیماریوں میں مبتلا ہیں تو کچھ خاص فروٹ کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ بہت ضروری ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو چائنیز میڈیا

نئے سال میں سب سے زیادہ زور صحت بخش غذا کے اہتمام پر دیا جا رہا ہے۔ خواہ یہ مزید پھلوں اور سبزیوں کے کھانے کی صورت میں یا پھر گوشت کا استعمال کم کرنے کی صورت میں ہو۔

العربیہ نے انگریزی ویب سائٹ The Conversaiton کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ اگر کوئی شخص طبی نسخے کے ذریعے دوا کھاتا ہے تو کئی بنیادی صحت بخش غذائیں اس کے ساتھ منفی طور پر عمل کر سکتی ہیں۔ یہاں بعض غذاؤں اور مشروبات کے بارے میں بتایا جا رہا ہے جن کے بارے میں جاننا چاہیے تا کہ صحت سے متعلق کسی بھی خطرے سے بچا جا سکے :

1- گریپ فروٹ کا جوس

گریپ فروٹ کے رس میں کیمیائی مرکبات ہوتے ہیں جنہیں ‘فورانوکومیرین’ کہتے ہیں۔ یہ جگر میں موجود انزائمز کو روک سکتے ہیں جنہیں ‘سائیٹوکروم بی 450’ کہا جاتا ہے۔ یہ انزائمز جسم میں بعض دواؤں کو توڑنے کا کام کرتے ہیں۔ اگر یہ انزائمز کام کرنا بند کر دیں، تو بعض دوائیں جسم میں جمع ہو سکتی ہیں۔ ان دواؤں میں سائیکلوسپورین، اسٹیٹنز، ایملوڈپائن شامل ہیں۔ اگر آپ ان دواؤں میں سے کوئی دوا لے رہے ہیں تو گریپ فروٹ کا رس پینے سے پہلے اپنے ڈاکٹر یا فارماسسٹ سے مشورہ کرنا بہتر ہے، اور ممکنہ طور پر اسے بالکل نہ پینا بہتر ہو سکتا ہے۔

سوشل میڈیا کمپنیوں نے پاکستانی پبلشرز کے اکاؤنٹس کیوں ختم کردیے؟

2- انار اور کروندے کا شربت

بہت سے پھل اور ان کے شربت بالخصوص ترش نوعیت رکھنے والے، جگر میں دوا کی تحلیل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ انار کا شربت جگر کے ان انزائمز کو روکتا ہے جو ‘وارفارین’ دوا کو تحلیل کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ مریضوں کو خون بہنے کے خطرات زیادہ ہو سکتے ہیں۔ انار کا شربت دوسری ادویات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے جیسا کہ ٹاکرولیمس ہے۔ اسی طرح کروندے کا شربت بھی ‘وارفارین’ پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تاہم، مختلف تحقیقاتی مطالعے اس معاملے میں متضاد نتائج پیش کرتے ہیں۔ کچھ مطالعوں میں کروندے کا ‘وارفارین’ پر اثر نظر آیا ہے جب کہ بعض دیگر میں ایسا کوئی اثر نہیں دیکھا گیا۔ لہذا اگر کوئی شخص ان شربتوں کا استعمال کرتا ہے تو اس کے لیے INR کی سطح کو باقاعدگی سے جانچ کرنا مفید ہو سکتا ہے۔

3- پتوں والی سبزیاں

عام طور پر پالک، گوبھی اور کرم کلا جیسی سبزیاں صحت مند غذاؤں کے طور پر دیکھی جاتی ہیں۔ اس لیے کہ یہ غذائیت سے بھرپور ہوتی ہیں اور ان میں کیلوریز کم ہوتی ہیں۔ تاہم یہ وٹامن K سے بھرپور ہوتی ہیں جو خون کے جمنے کے عوامل (وہ پروٹینز جو خون کو جمنے میں مدد دیتی ہیں) کو فعال کرنے کے لیے ضروری ہے۔
یہ پتوں والی سبزیاں ان مریضوں کے لیے مسئلہ بن سکتی ہیں جو ‘وارفارین’ لے رہے ہیں۔ یہ دوا خون کو جمنے سے روکنے کے لیے وٹامن K کو روک سکتا ہے تاہم وٹامن K سے بھرپور غذائیں کھانے سے INR (جو خون کے جمنے کا وقت ظاہر کرتا ہے) کی سطح کم ہو سکتی ہے اور خون کے جمنے کے خطرے میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

4- دودھ

دودھ اور دودھ سے بنی غذائیں جیسا کہ پنیر اور دہی، یہ پروٹین اور کیلشیئم کے اچھے ذرائع سمجھے جاتے ہیں، جو ہڈیوں کی صحت کے لیے ضروری معدنیات میں سے ہے۔ تاہم یہ غذائیں آنتوں میں کچھ دواؤں کے جذب کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ان میں کچھ اینٹی بائیوٹکس شامل ہیں مثلا بعض ٹٹراسائکلن اور سیبروفلوکساسن وغیرہ۔ دودھ میں موجود کیلشیئم اینٹی بائیوٹکس کے ساتھ جڑ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دوا خون میں جذب نہیں ہو پاتی اور جسم کو مکمل مقدار میں دوا نہیں مل پاتی۔ اس طرح انفیکشن کے خلاف مزاحمت مشکل ہو جاتی ہے۔ دودھ سے متاثر ہونے والی دوسری دوائیں لیوتھیروکسین ہیں، جو ان مریضوں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں جنہیں غدہ درقیہ (تھرائیڈ) کی کمی ہوتی ہے۔ لیکن چونکہ یہ معاملات آنتوں میں ہوتے ہیں لہذا اس کا مطلب یہ ہے کہ ان دواؤں کے ساتھ دودھ پینا ممکن ہے۔ زیادہ تر حالتوں میں آپ کو دوا لینے سے پہلے یا بعد میں دودھ پینے کے لیے کم از کم دو گھنٹے کا وقفہ رکھنا ہوتا ہے۔

5- لوبیا

لوبیا کو صحت مند غذا سمجھا جاتا ہے کیوں کہ یہ فائبر، وٹامنز اور معدنیات سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہ پروٹین کا ایک اچھا نباتاتی ذریعہ بھی ہے۔ تاہم لوبیا، مونگ پھلی اور مٹر میں ‘ٹیرامن’ کی مقدار زیادہ ہو سکتی ہے۔ ٹیرامین جسم میں موجود ایک قدرتی مادہ ہے اور کچھ غذاؤں میں بھی پایا جاتا ہے جیسا کہ پرانی پنیر، پروسیسڈ گوشت اور کھمبیوں والی کھانے کی اشیاء۔ یہ مادہ اینٹی ڈپریشن دوا ‘فنائلزین’ کے ساتھ رد عمل کر سکتا ہے۔ فنائلزین ایک دوا ہے جو ان انزائمز کو روکتی ہے جو ٹیرامین کو جسم میں توڑنے کا کام کرتے ہیں۔ اگر مریض ٹیرامین سے بھرپور غذائیں کھائیں، تو اس سے ٹیرامین کی سطح بڑھ سکتی ہے اور بلڈ پریشر میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

Related Posts