اسلام آباد ہائیکورٹ میں سائفر سے متعلق کیس اور سابق وزیر اعظم عمران خان اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت آج ہوگی۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 2 رکنی بینچ سائفر سے متعقل کیس کی سماعت کرے گا۔عدالت نے سرکاری وکلاء کی تعیناتی سے متعلق ایڈووکیٹ جنرل سے جواب طلب کیا تھا۔
واضح رہے کہ سائفر کیس ملک کے کسی بھی وزیراعظم کے خلاف قائم ہونے والا اپنی نوعیت کا منفرد کیس ہے جس میں ریاست اور ملک کا سابق وزیر اعظم، جو ایک سیاسی جماعت کا سربراہ بھی رہا، ایک دوسرے کے خلاف کھڑے نظر آتے ہیں۔
جنوری میں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت نے سابق وزیراعظم عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں 10،10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ اڈیالہ جیل میں اِن کیمرہ سماعت کے دوران جج ابوالحسنات نے مختصر فیصلہ سنایا تھا۔
دورانِ سماعت عمران خان اور شاہ محمود قریشی کمرۂ عدالت میں حاضر تھے اور بیانات کی نقول بھی حاصل کیں۔ شاہ محمود قریشی نے بیانات پر جوابات لکھوائے اور عمران خان کا 342 کا بیان کمرۂ عدالت میں ریکارڈ ہوا تھا، دریں اثناء سزا سنائی گئی۔
جلسے میں کاغذ لہرانے کی وجوہات
اپریل 2022 میں عمران خان کی حکومت تحریکِ عدم اعتماد لا کر ختم کردی گئی جس سے قبل مارچ کے اختتام پر ہی سابق وزیراعظم کو اس بات کا علم ہوچکا تھا اور 27مارچ 2022 کو اسلام آباد میں عوامی جلسے کے دوران عمران خان نے ایک کاغذ لہرایا۔
سائفر کیس کی بنیاد یہ بنی کہ عمران خان نے امریکا میں تعینات پاکستان کے 2022 ء میں سفارتکار اسد مجید کے بھیجے گئے سفارتی مراسلے کا مواد عوام کے سامنے افشاء کیا۔ عمران خان نے خط لہرا کر دعویٰ کیا کہ غیر ملکی حکومت نے میری حکومت ختم کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔
اگر عمران خان کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو وقت کے وزیراعظم کو امریکا نے حکومت سے بے دخل کردیا ، جس پر ان کا خط لہرا کر عوام کو بتانا بنتا تھا، تاہم سائفر کی حیثیت ملکی راز کی سی ہوتی ہے جس کے باعث جنوری 2024 میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سزا سنا دی گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








