کراچی : شہر قائد میں حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی، سرکاری “رٹ”متعلقہ اداروں کے افسران نے ختم کر دی، غیر قانونی تعمیرات کو ایس بی سی اے افسران کی کھلی چھوٹ ، بس بھاری نذرانے دو اور جہاں دل چاہے غیر قانونی عمارتیں تعمیر کرو۔پورے شہر میں لاک ڈاؤن کے باوجود غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں۔
ناظم آباد ، نارتھ ناظم آباد ، نیو کراچی، لیاقت آباد، لانڈھی ،جمشید اور گلشن اقبال میں غیر قانونی تعمیرات کی جارہی ہیں۔ناظم آباد نمبر 2 لیاقت آباد ٹاؤن کی حدود میں پلاٹ نمبر 11 سب بلاک نمبر2 پر 208 گز کو مزید 62 گز غیر قانونی قبضہ شدہ زمین میں شامل کر کے 270 گز پر 9 منزلہ عمارت تیار کی جا رہی ہے، ایس بی سی اے افسران نے مبینہ بھاری نذرانوں کے عوض نظریں چرا لیں۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس 1979 کی دفعہ نمبر 7-اے کی خلاف ورزی کی۔ صدف گرینڈز عمارت کے بیسمنٹ کے ساتھ ساتھ 20 دکانیں اور غیر قانونی میزنائین سمیت 9 منزلہ عمارت تعمیر کر دی گئی۔ جمشید ٹاؤن کے علاقے کراچی ایڈمن سوسائٹی بلاک 7 پلاٹ A 443 پر لاک ڈائون کے دوران بلڈر نے دو منزلیں تعمیر کرلی ہیں۔
بتایاجاتا ہے کہ بلڈر نے کے بی سی اے کے علاقائی انسپکٹر سے دس لاکھ فی فلیٹ ڈیل کی ہے ۔مکینوں کے مطابق بلڈر نے مکسچر مشین کے بغیر لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مزدوروں کی فوج لگا کر ہاتھ سے چھت بھرائی ہے، علاقے میں کورونا پھیلنے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں: ایس بی سی اے افسران نے غیر قانونی تعمیرات کو نوٹس جاری کرکے کروڑوں بٹور لیے
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








