کراچی : لیاقت آباد اور گلبرگ کے بعد جمشیدٹاؤن غیر قانونی تعمیرات کا مرکز بن گیا ، جمشید زون میں ڈپٹی ڈائریکٹر علی اسد نےجمشید ٹاؤن زون 1 میں واقع سولجر بازار میں پلاٹ نمبر 11/2 پر غیر قانونی تعمیرات کرنے والے عمیر نامی بلڈر سے لاکھوں روپے رشوت کی وصولی کے بعد نقشے کو نظر انداز کر کے غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دے دی ۔
بلڈر عمیر نے قیمتی پورشنز کی بکنگ شروع کر دی ہے ، معصوم اور سادہ لوح افراد کو جنہیں جلد اس گنجان آباد علاقے میں مکان چاہیے انہیں 30 تا 50 لاکھ میں ایک پورشن فروخت کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر علی اسد کی آشیر باد سے 16 فٹ کورڈ ایریا بنادیا گیا ہے اور اس کے علاوہ 5 فٹ کا چھجا بھی باہر نکالا ہوا ہے جس کے باعث گلی میں ہوا اور روشنی کا گزر ہی بند ہو گیا ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر علی اسد کی بھاری نذارنے کے عوض خصوصی کرم نوازی کے باعث 2 فلیٹ بھی غیر قانونی تعمیر کر لئےگئے ہیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ غیر قانونی تعمیرات کوغیر قانونی قرار دے کر منہدم بھی کیا جا چکا ہے اور اسے سیل بھی کیا گیا تھا مگر بلڈر نے ڈپٹی ڈائریکٹر بلڈنگ کنٹرول علی اسدکوبھاری نذرانہ پیش کر کے دوبارہ غیر قانونی تعمیرات شروع کر رکھی ہیں۔
یاد رہے کہ علی اسد کے زیر سایہ درجنوں غیر قانونی تعمیرات برق رفتاری سے جاری ہیں، کرپٹ ترین ڈپٹی ڈائریکٹر جمشید ٹاؤن علی اسد نے پورے جمشید ٹاؤن کو کنکریٹ کا جنگل بنانے کا تہیہ کر لیا ہے۔
لاک ڈاؤن کے باوجود جمشید زون میں علی اسد کی سرپرستی میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے، علی اسد کاکہنا ہے کہ ہم یہاں کےبادشاہ ہیں ، ہمارے ہوتے یہاں کوئی بھی غیر قانونی تعمیرات کو ڈسٹرب نہیں کر سکتا۔
مزید پڑھیں: نوجوان اسسٹنٹ ڈائریکٹر صحت یاب، بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے کورونا کا خوف ختم
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








