ایس بی سی اے کی زیرسرپرستی تاریخی عمارتیں گراکر غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ شروع

تازہ ترین

تازہ ترین

illegal construction start in historical buildings in karachi

کراچی : ثقافتی ورثہ قرار دی گئی عمارتیں متعلقہ حکام کی کرپشن کے باعث جعلسازی کے ذریعہ ڈھائی جانے لگیں ، بلڈر مافیا بے قابو، نام نہاد محمد کاشف نامی بلڈر نے قومی ثقافتی ورثہ قرار دی گئی عمارت منہدم کردی۔

باثر بلڈر نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کےبد عنوان افسران سے ملی بھگت کرکے ثقافتی ورثہ قرار دی گئی عمارت بولٹن مارکیٹ کے علاقے میں کلاتھ مارکیٹ کے ساتھ پلاٹ نمبر 1شیٹ نمبر BR-2پر  قائم تھی شروعاتی طور پر پرانی عمارت کے سامنے والے اسٹرکچر کو صحیح حالت میں رکھا گیا۔

بلڈر نے بقیہ عمارت کو گرا کر راتوں رات کئی منزلہ اسٹرکچر تعمیر کرلیااورتعمیرات جب ساتویں منزل تک پہنچیں تو بلڈر نے قومی ورثہ قرار دی عمارت کا فرنٹ اسٹرکچر بھی گرادیا۔

نام نہاد بلڈر محمد کاشف سے جب موقف لیا تو اس کا کہنا تھا کہ اس نے ایس بی سی اے سے نقشہ پاس کرنے کی بات کی تھی مگر انہیں انکار کردیا گیا ۔

ایس بی سی اے حکام نے دوغلی پالیسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عمارت ثقافتی ورثہ ہونے کی وجہ سے منظوری دینے سے انکار کیا اور دوسری طرف بلڈر کاشف سے بھاری نذرانہ وصول کر کے صدر ٹاؤن کے ڈائریکٹر ایس بی سی اے اور ڈپٹی ڈائریکٹر نے زبانی عمارت پر غیر قانونی منازلیں تعمیر کرنے کی اجازت دے دی۔

ایس بی سی اے اور علاقہ پولیس کی مبینہ رشوت خوری کے باعث ثقافتی ورثہ کا قومی مجرم کھلے عام تاریخی عمارت کو برباد کرنے اور اس پر غیر قانونی پورشنز بنانے میں مصروف ہے۔

ذرائع کے مطابق ایس بی سی اے کے اعلیٰ حکام کے علم میں ہے تاہم انہوں نے اپنا حصہ وصول کر کے خاموشی اختیار کر لی ہے۔

مزید پڑھیں: سندھ میں مسیحائی کی جگہ کورونا وائرس کے نام پر موت کا رقص جاری

بولٹن مارکیٹ ، اولڈ سٹی ایریا ، سمیت شہر قائد کے عوام نے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ اور سیکریٹری بلدیات روشن شیخ سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی ورثہ قرار دی گئی عمارتوں کو بے دردی سے منہدم کرنے اور قدیم تاریخی نشانیاں مٹانے میں ملوث افراد ، بلڈرز اور متعلقہ اداروں کے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

Related Posts