متنازع مواد پر گرفتاری کے بعد بیماری؟سینئر صحافی کو 5 سال قبل خون کی الٹیاں ہوئیں تھیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے ہفتہ کے روز سینئر صحافی فخر رحمان کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ فخر رحمان کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک متنازع پوسٹ کے الزام میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔

61 سالہ صحافی جو ترک نیوز چینل اے ہیبر سے وابستہ ہیں کو گزشتہ روز نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اینڈ کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا اور بعد ازاں ڈیوٹی مجسٹریٹ یاسر محمود کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

سماعت کے دوران دفاعی وکیل بیرسٹر احد کھوکھر نے موقف اختیار کیا کہ فخر رحمان نے کوئی ذاتی بیان جاری نہیں کیا بلکہ انہوں نے صرف مولانا سردار علی گردیزی کی ایک ویڈیو کو ری ٹویٹ اور رپورٹ کیا تھا۔ مذکورہ ویڈیو میں مبینہ طور پر چیف آف ڈیفنس فورسز کی شیعہ علما سے خطاب پر سخت ردعمل دیا گیا تھا۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فخر رحمان ایک پیشہ ور صحافی ہیں اور انہوں نے صرف مولانا گردیزی کا ویڈیو بیان شیئر کیا جبکہ اسی پوسٹ میں عسکری قیادت کی تقریر کی ویڈیو بھی موجود تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ تاحال مولانا گردیزی کے دعوے کی کوئی سرکاری تردید سامنے نہیں آئی۔

دفاعی ٹیم نے مزید نشاندہی کی کہ متعلقہ ٹویٹ ایف آئی آر درج ہونے سے کافی پہلے ہی حذف کر دی گئی تھی اور مقدمے میں اس کے علاوہ کسی اور پوسٹ یا ویڈیو کا ذکر نہیں کیا گیا۔ وکیل کے مطابق سوشل میڈیا پر اسلام آباد پوسٹ نامی ایک غیر موجود اکاؤنٹ سے فخر رحمان کو جوڑنے کی غلط معلومات بھی پھیلائی جا رہی ہیں حالانکہ ایف آئی آر میں اس کا کوئی حوالہ موجود نہیں۔

دوسری جانب این سی سی آئی اے نے عدالت سے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ فخر رحمان نے ٹویٹ کو اپنا تسلیم کیا ہے تاہم انہوں نے اپنے موبائل فون کا پاس ورڈ فراہم کرنے سے انکار کیا جس کی وجہ سے مواد کی تصدیق کے لیے جسمانی تفتیش ضروری ہے۔

عدالت میں صحافی کی خراب صحت کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ اہل خانہ کے مطابق فخر رحمان جگر کے سنگین مرض میں مبتلا ہیں اور ان کا جگر صرف 30 فیصد کام کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پانچ سال قبل انہیں خون کی الٹیاں ہونے پر ہولی فیملی اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں ان کی دل کی دھڑکن بحال کرنے کے لیے برقی جھٹکے بھی دینا پڑے تھے۔

دفاع کے وکیل ایڈووکیٹ فیاض کندوال نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پیشی کا نوٹس اسی روز موصول ہوا جس میں الزامات کی تفصیل بھی شامل نہیں تھی تاہم فخر رحمان نے اپنے تحریری جواب میں متعلقہ پوسٹ حذف کرنے کی پیشکش کر دی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں ملزم کے خلاف کسی واضح جرم سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں کیا گیا۔ فخر رحمان جو سپریم کورٹ اور وزارت خارجہ کی رپورٹنگ میں 35 سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں نے سماعت کے دوران خود کوئی بیان نہیں دیا۔ عدالت کی جانب سے ریمانڈ سے متعلق فیصلہ بعد میں سنائے جانے کا امکان ہے۔

Related Posts