“میں اپنی قبر خود کھود رہا ہوں….” غزہ میں قید اسرائیلی فوجی کا نیتن یاہو کے نام پیغام

تازہ ترین

تازہ ترین

اسرائیلی قیدی حماس کے زیر انتظام ایک سرنگ سے پیغام جاری کرتے ہوئے
فوٹو اسکرین گریب

“جو کچھ میں کر رہا ہوں وہ اپنی قبر کھودنے کے مترادف ہے۔” ان الفاظ کے ساتھ غزہ میں قید ایک اسرائیلی فوجی نے صہیونی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو اور اپنی قوم کے نام ایک نئی ویڈیو پیغام میں مخاطب کیا، جو حماس کے عسکری ونگ “کتائب القسام” کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اس قیدی کا نام “آفیتار ڈیوڈ” ہے، جو اس وڈیو میں انتہائی لاغر حالت میں ایک تنگ سرنگ میں اپنی روزمرہ کی بھوک اور تکلیف کا ذکر کرتے دکھائی دیتا ہے اور یہ پیغام موجودہ جنگ اور غزہ پر اسرائیلی محاصرے کے تناظر میں اس کی جسمانی اور ذہنی زبوں حالی کی غمازی کرتا ہے۔
گزشتہ روز اسی قیدی کی ایک اور وڈیو جاری کی گئی تھی، جس کے بعد آج کی وڈیو میں اسے زمین پر بچھے بستر پر بیٹھا دکھایا گیا ہے، وہ ایک دیوار پر لٹکی کاغذی شیٹ پر قلم سے اپنے ایامِ اسارت کا حساب لکھتا ہے اور درج کرتا ہے کہ کب اسے کیا اور کتنا کھانے کو ملا۔ وڈیو کا آغاز اتوار، 27 جولائی کے دن کی تاریخ سے ہوتا ہے۔
کیمرے کی طرف دیکھ کر اسیر کہتا ہے: “مجھے نہیں معلوم آج کیا کھاؤں گا، میں کئی دنوں سے بھوکا ہوں۔ میں مہینوں سے سخت حالات میں جی رہا ہوں، پینے کے لیے بمشکل پانی ملتا ہے۔” وہ مزید کہتا ہے: “میرا کھانا صرف تھوڑی سی دال یا پھلیاں ہے۔ مجھے دیکھو، میں کتنا دبلا ہو چکا ہوں، یہ کوئی فریب نہیں بلکہ حقیقت ہے۔”
وہ مزید بتاتا ہے: “میری حالت بہت خراب ہے، نہ گوشت ہے، نہ مرغی، نہ مچھلی۔” وڈیو میں ماضی کی کچھ جھلکیاں بھی شامل ہیں جن میں کچھ قیدی نسبتاً بہتر حالت میں کھانا کھاتے اور کیمرے کی جانب شکر گزاری سے مسکراتے دکھائی دیتے ہیں، یہ ممکنہ طور پر محاصرے کی سختی سے پہلے کی ریکارڈنگ ہے۔
اسرائیلی قیدی نے جولائی کے مہینے کے لیے اپنی ذاتی غذا کا جدول بھی دکھایا، جس میں واضح کیا کہ کئی دنوں تک اسے کچھ بھی کھانے کو نہیں ملا اور کچھ دنوں میں محض دال یا پھلیاں ہی میسر آئیں۔ بعض ایام میں وہ بالکل بھوکا رہا۔
ویڈیو میں اسے ایک ٹن پیک فروٹ کی ڈبیا پکڑتے ہوئے بھی دکھایا گیا، جس کے بارے میں وہ کہتا ہے کہ یہ اگلے دو دنوں کے لیے اس کی کل خوراک ہے “صرف زندہ رہنے کے لیے”، جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ قیدیوں تک خوراک کی فراہمی نہایت محدود ہے، خاص طور پر اس اسرائیلی محاصرے کے دوران جو پورے غزہ پر نافذ ہے۔
قیدی نے وزیر اعظم نتن یاہو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: مجھے لگتا ہے کہ مجھے یہاں مکمل طور پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ مجھے یہ سکھایا گیا تھا کہ اسرائیل اپنے قیدیوں کا خیال رکھتا ہے، لیکن جو کچھ میرے ساتھ ہو رہا ہے وہ سراسر جھوٹ ہے۔
وڈیو کے اختتام پر قیدی کو سرنگ کی زمین پر بیلچہ مارتے ہوئے دکھایا گیا اور وہ کہتا ہے: میں اپنی قبر خود کھود رہا ہوں، کیونکہ وقت ختم ہو رہا ہے اور میرا جسم روز بروز کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ اس کے بعد وہ اپنے عوام سے مخاطب ہو کر کہتا ہے: صرف آپ ہی وہ لوگ ہیں جو یہ سب روک سکتے ہیں تاکہ میں واپس آکر اپنے بستر پر اپنے خاندان کے ساتھ سو سکوں۔
وڈیو کے اختتام پر القسام بریگیڈ نے عربی، عبرانی اور انگریزی میں ایک واضح پیغام دیا کہ وہ صرف ایک معاہدے کے تحت واپس آئیں گے اور یہ اضافہ کیا کہ وقت ختم ہو رہا ہے۔ گویا یہ تنبیہ ہے کہ کوئی فوجی کارروائی قیدیوں کو زندہ واپس نہیں لا سکتی۔
یہ وڈیو اُس وڈیو کے بعد جاری کی گئی ہے جو گزشتہ روز نشر ہوئی تھی، جس میں یہی قیدی خاموش دکھائی دیتا ہے اور اس کا جسمانی لاغری اس کی حالت زار کی عکاسی کرتی ہے۔ اس ویڈیو کا مقصد غزہ کے عوام اور قیدیوں کی مشترکہ بھوک اور محرومی کو دکھانا تھا۔
پہلے وڈیو میں ایک طرف قیدی کی بھوک سے نڈھال حالت دکھائی گئی اور دوسری طرف غزہ کے بچوں کی تصاویر شامل کی گئیں جن پر فاقے کے اثرات نمایاں تھے اور یہ سب اسرائیلی محاصرے اور انسانی امداد کی بندش کی وجہ سے تھا۔
پہلے وڈیو کا اختتام اس عبارت پر ہوا: “وہی کھاتے ہیں جو ہم کھاتے ہیں، وہی پیتے ہیں جو ہم پیتے ہیں” یہ پیغام اس بات کو واضح کرتا ہے کہ قیدیوں کو بالکل اسی طرح بنیادی سطح پر رکھا گیا ہے جیسے غزہ کے عام شہری، جو مسلسل جنگ اور محاصرے کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ دونوں وڈیوز ایک ایسے وقت میں نشر کی گئی ہیں جب اسرائیل میں قیدی فوجیوں کے مستقبل کے حوالے سے شدید بحث جاری ہے۔ اسیران کے اہل خانہ اور حکومت کے درمیان اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں اور حکومت پر ایک نئے تبادلہ معاہدے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
کتائب القسام کے ترجمان ابو عبیدہ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اسرائیلی قیدی صرف ایک جامع تبادلہ معاہدے کے تحت رہا کیے جائیں گے، جیسا کہ ماضی میں شالیت معاہدے کے تحت کیا گیا تھا، جب کہ اسرائیلی حکومت اس آپشن کو مسترد کر کے عسکری دباؤ کو ترجیح دیتی ہے۔
القسام بریگیڈ اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ قیدیوں کی ویڈیوز جاری کر چکی ہے جن میں انہوں نے اپنی حکومت سے رہائی کے لیے درخواست کی، اور یہ انتباہ دیا کہ عسکری راستہ انہیں زندہ واپس نہیں لا سکتا۔ ان حالیہ وڈیوز نے اسرائیلی معاشرے میں ایک نیا اضطراب پیدا کر دیا ہے، اور اس حقیقت کو پھر سے اجاگر کیا ہے کہ فوجی حل کی راہ انسانی قیمت پر ختم ہو سکتی ہے۔

Related Posts