انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور معروف وکیل ایمان زینب مزاری نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر کے خلاف ہراسانی کی باضابطہ شکایت دائر کر دی ہے۔
یہ شکایت اسلام آباد ہائیکورٹ کی ورک پلیس ہراسمنٹ کمیٹی کو جمع کرائی گئی جو جسٹس ثمن رفت امتیاز کی سربراہی میں کام کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق شکایت ایک عدالت کے معاون کے ذریعے جمع کروائی گئی۔

واقعہ گزشتہ جمعرات کو اس وقت پیش آیا جب چیف جسٹس ڈوگر نے ایمان مزاری کو مبینہ طور پرڈکٹیٹر کہنے پر توہینِ عدالت کی کارروائی کی وارننگ دی اور یہاں تک کہ یہ ریمارکس دیے کہ انہیں گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔
ایمان مزاری کا موقف ہے کہ وہ صرف اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہی تھیں اور اگر عدالت ضروری سمجھے تو وہ توہینِ عدالت کی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں اور کچھ نامناسب الفاظ بھی استعمال کئے۔
اپنی درخواست میں ایمان مزاری نے مؤقف اختیار کیا کہ چیف جسٹس کی جانب سے ان کے ساتھ غیر دوستانہ، امتیازی، دھمکی آمیز اور غیر معقول رویہ اختیار کیا گیا، جو خواتین کے خلاف ہراسگی کے زمرے میں آتا ہے۔
Today, I have filed a complaint against Chief Justice of the Islamabad High Court, Mr. Sarfraz Dogar, before the Islamabad High Court's workplace harassment committee; and also a reference against him for misconduct before the Supreme Judicial Council.
— Imaan Zainab Mazari-Hazir (@ImaanZHazir) September 15, 2025
انہوں نے مزید درخواست کی کہ چیف جسٹس کو ہراسانی کا مرتکب قرار دیا جائے اور یہ معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجا جائے۔ ایمان مزاری نے اپنی درخواست کی کاپی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی شیئر کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








