پی آئی اے نجکاری کے عمل میں اہم پیش رفت؛ چار خریدار سامنے آگئے

تازہ ترین

تازہ ترین

CAA ‘gears up’ to lift UK travel ban
(فوٹو؛ فائل)

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے عمل میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ نجکاری کمیشن نے اپنے حالیہ اجلاس میں چار سرمایہ کاروں کو ابتدائی طور پر اہل قرار دیا ہے۔ مشیر نجکاری محمد علی کی زیر صدارت ہونے والے اس اجلاس میں ممکنہ سرمایہ کاروں کی پیش کردہ دستاویزات کا بغور جائزہ لیا گیا۔

پانچ سرمایہ کاروں کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواستوں کی مکمل چھان بین کے بعد، چار کمپنیوں کو اگلی مرحلے یعنی ڈیو ڈیلیجنس کے لیے منتخب کیا گیا۔ یہ کمپنیاں اب پی آئی اے کی مالی اور آپریشنل تفصیلات کا گہرائی سے جائزہ لیں گی تاکہ نجکاری کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔

نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ عمل شفافیت کے ساتھ انجام دیا جا رہا ہے تاکہ قومی ایئرلائن کے مستقبل کو محفوظ اور مستحکم بنایا جا سکے۔ اجلاس میں نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کے حوالے سے بھی ایک منصوبے کی منظوری دی گئی، جس کا مقصد پاکستان کے لیے پائیدار مالی فوائد حاصل کرنا ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق، یہ چاروں سرمایہ کار پی آئی اے کے 51 سے 100 فیصد حصص حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔ یہ اقدام پاکستان کی مالی اصلاحات اور خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی بحالی کے لیے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کا حصہ ہے۔

پی آئی اے کئی سالوں سے مالی مشکلات کا شکار ہے، اور حکومت اسے نجی سرمایہ کاری کے ذریعے نہ صرف اس کے خسارے کو کم کرنا چاہتی ہے بلکہ اسے ایک منافع بخش ادارہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ نجکاری کا عمل ملکی معیشت کو مضبوط کرنے اور قومی ایئرلائن کی کارکردگی بہتر بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔

Related Posts