بنگلادیش میں ہنگامے شدت اختیار کرگئے، حسینہ واجد کے سیاسی مخالفین بھی شرپسندوں کے حملوں سے محفوظ نہیں

تازہ ترین

تازہ ترین

اپوزیشن رہنما کا گھر جلا دیا گیا، فائل فوٹو

بنگلہ دیش کے ضلع لکشمی پور میں نامعلوم افراد نے بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے مقامی رہنما کے گھر کا دروازہ باہر سے بند کر کے پٹرول چھڑکا اور آگ لگا دی۔ جس کے نتیجے میں 7 سالہ بچی جاں بحق جبکہ رہنما اور ان کی دو بیٹیاں شدید جھلس گئیں جو زخمی حالت میں اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ ہفتے کی صبح لکشمی پور کے چرمنشا گاؤں میں پیش آیا۔ متاثرہ گھر بلال حسین کا بتایا جا رہا ہے، جو بی این پی کے مقامی رہنما ہیں۔

آگ لگنے سے 7 سالہ بچی جاں بحق، 50 سالہ بلال حسین اور ان کی 17 اور 14 سالہ دو بیٹیاں جھلس کر زخمی ہوگئیں۔ آتشزدگی کے نتیجے میں بی این پی رہنما کا گھر مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گیا۔

بی این پی کے مقامی رہنماؤں کے مطابق حملہ آوروں نے پہلے دروازہ بند کیا، پھر پیٹرول چھڑک کر آگ لگائی، یہ پلاننگ کے ساتھ کی گئی دہشت گردی ہے۔ انہوں نے اس کارروائی میں ملوث افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

لکشمی پور پولیس نے واقعے میں بچی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس اس پہلو کی تحقیقات کر رہی ہے کہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی یا نہیں۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں نوجوان طالبِ علم رہنما شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد ڈھاکا سمیت ملک بھر میں شدید احتجاج اور پرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔

خیال رہے کہ سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی شیخ حسینہ کی عوامی لیگ کے بعد ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت سمجھی جاتی ہے اور یہ جماعت عوامی لیگ کی شدید مخالف سمجھی جاتی ہے۔

بی این پی نے حالیہ دنوں میں انقلاب منچہ کے ترجمان شریف عثمان ہادی کی ہلاکت کے بعد ملک بھرمیں ہونے والے ہنگاموں کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کی فوری گرفتاری اور ان کے خلاف سخت سزاؤں کا مطالبہ کیا۔

Related Posts