کراچی میں رائیڈ ہیلنگ ایپ ان ڈرائیو کے ذریعے سفر کرنے والی ایک نوجوان لڑکی پر اُس وقت قیامت ٹوٹ پڑی جب ڈرائیور نے مبینہ طور پر راستہ بدل کر اغوا کی کوشش کی تاہم طالبہ نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دی اور قریبی پولیس موبائل تک پہنچ کر مدد طلب کی۔
شاباش لڑکی 👏🏻
کراچی میں ایک لڑکی Indrive کے ڈرائیور کی جانب سے اغوا کی کوشش سے بال بال بچ گئی۔
لڑکی گاڑی میں سوار ہوئی تو ڈرائیور نے ایپ پر Ride شروع ہی نہ کی اور راستہ بدل کر لڑکی کو ہراس کرنے اور کسی اور جگہ لیجانے لگا۔لڑکی نے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دی قریبی پولیس موبائل کو… pic.twitter.com/0080af8jyB— Sehrish Maan (@SMunirMaan) September 6, 2025
واقعہ اس وقت پیش آیا جب طالبہ نے ان ڈرائیو کے ذریعے سواری بُک کی۔ وہ معروف فیشن ڈیزائنر کے ہاؤس سے وابستہ ہیں۔ طالبہ کے مطابق ڈرائیور نے ایپ پر سواری شروع کیے بغیر گاڑی چلائی اور مقررہ راستے سے ہٹ کر نامعلوم سمت اختیار کی۔ اس دوران اس پر نامناسب رویہ اختیار کیا گیا جس سے گھبرا کر اس نے جان بچانے کی خاطر گاڑی سے کودنے کا فیصلہ کیا۔
پولیس نے متاثرہ لڑکی کی فوری اطلاع اور گاڑی کی معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی اور ملزم کو قریب ہی ایک ٹریفک سگنل سے گرفتار کر لیا۔ ملزم پر اغوا کی کوشش اور ہراسانی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
پولیس حکام نے طالبہ کی حاضر دماغی کو سراہا ہے جس نے نہ صرف خود کو بچایا بلکہ ایک ممکنہ مجرم کو بھی قانون کے حوالے کیا۔ پولیس حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ مشکوک سرگرمیوں کی صورت میں فوراً اطلاع دیں۔
یہ واقعہ شہریوں میں شدید غم و غصے کا باعث بنا ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر ان ڈرائیو کے خلاف سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ رائیڈ ہیلنگ کمپنیوں کے ڈرائیورز کی مکمل جانچ پڑتال، بیک گراؤنڈ چیک اور سیکیورٹی فیچرز کو فوری نافذ کیا جائے۔
واضح رہے کہ رائیڈ ہیلنگ ایپ ان ڈرائیو سے منسلک سروسز روز بروز غیر محفوظ ہوتی جا رہی ہیں۔ کار، بائیک اور رکشہ ڈرائیوروں کی بڑی تعداد نہ صرف غیر تربیت یافتہ ہے بلکہ اکثر ان کا رویہ بھی انتہائی غیر مہذب پایا گیا ہے۔ ماضی میں متعدد واقعات میں ان ڈرائیو کے ڈرائیور مسافروں سے بدتمیزی، ہراسانی حتیٰ کہ تشدد جیسے سنگین الزامات میں بھی ملوث پائے گئے ہیں جو عوامی تحفظات کو مزید تقویت دیتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








