آج پاکستان سمیت دنیا بھر کی سکھ برادری ساکہ ننکانہ صاحب کے 100 برسوں کی تکمیل پر اس وقت کو یاد کر رہی ہے جب 1921ء میں سکھوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی۔

سکھ برادری مذہبی اعتبار سے ہندوؤں کے مقابلے میں مسلمانوں سے زیادہ قریب سمجھی جاتی ہے، کیونکہ ہندو مذہب میں ذات پات اور بت پرستی کی عبادت اہم سمجھی جاتی ہے جبکہ سکھ برادری کے عقائد اس کے مقابلے میں کسی حد تک مسلمانوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔
![]()
اگر آپ گردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب میں داخل ہوتے ہیں تو مرکزی عمارت جہاں واقع ہے اس کی دائیں سمت میں جنڈ کا درخت نظر آتا ہے جو 100 سال سے زیادہ عرصہ قدیم ہے۔

سن 1921ء میں یہاں سکھوں کے خون سے جو ہولی کھیلی گئی، جنڈ کا درخت اس کی گواہی دیتا ہے. یہ بڑا تکلیف دہ وقت تھا کیونکہ ہر جگہ سکھوں کی لاشیں نظر آتی تھیں۔ بھارت میں سکھوں کے درجنوں مقدس گردواروں پر مہنت قابض ہو گئے تھے۔

اگر کوئی سکھ آواز اٹھاتا تو اسے قتل کر دیا جاتا۔ مہنت سادہ لوح سکھوں کو برطانیہ کی غلامی قبول کرنے کا سبق پڑھاتے رہتے تھے جس سے سمجھدار سکھ قوم بے زار تھی جنہیں اپنے گردوارے مہنتوں سے واپس حاصل کرنا تھے۔

سکھ قوم کیلئے سانحہ جلیانوالہ باغ کے بعد یہ دوسرا بڑا سانحہ تھا۔ تاریخ کہتی ہے کہ واقعے میں بچوں اور بزرگوں سمیت 260 سکھوں کا خون بہایا گیا۔ سیکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے۔

جب بھارت میں اس سانحے کی اطلاع پہنچی تو سکھ برادری طیش میں آگئی۔ کرتار سنگھ جبر کی سرکردگی میں ہزاروں سکھ امرتسر سے ننکانہ صاحب جا پہنچے۔برطانوی حکومت نے گھبرا کر گردوارہ جنم استھان کی کنجیاں سکھ قوم کو دے دیں۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








