سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کیلئے نامناسب ویڈیوز کا ٹرینڈ: سنگین اور چونکا دینے والے حقائق بےنقاب

تازہ ترین

تازہ ترین

نامناسب ویڈیوز
(فوٹو: آن لائن)

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حالیہ عرصے میں ایسے متعدد کریئیٹرز سامنے آئے ہیں جن کے مواد میں ایک مخصوص اور متنازعہ پیٹرن دیکھا جا رہا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کیلئے نامناسب ویڈیوز ٹرینڈ بن چکی ہیں۔ بھارت سے سامنے آنے والی رپورٹ نے سنگین اور چونکا دینے والے حقائق بے نقاب کردئیے۔ 

معروف یوٹیوبر نکیتا ٹھاکر کا اپنی ایک حالیہ ویڈیو میں کہنا ہے کہ بھارت میں نامناسب کنٹینٹ کا رجحان بڑھانے میں مسکان کاریا، کاجل پانڈے، سنترہ موم، رچنا اور دیگر کریئیٹرز کے نام بطور مثال سامنے آئے ہیں، جن کے ویڈیوز میں فیمیلی فرینڈلی مواد سے شروع ہو کر رفتہ رفتہ ڈبل مِیننگ، نیم عریانی اور جنسی اشارے کرتے ہوئے مواد تک کا عروج دیکھا گیا۔

نکیتا ٹھاکر کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ان کریئیٹرز نے عام فیملی یا فوڈ ریویو نوعیت کے مواد سے آغاز کیا، جسے نسبتاً کم ویوز ملے۔ مثال کے طور پر بعض ویڈیوز کو صرف ہزاروں یا ایک لاکھ کے قریب ویوز حاصل ہوئے۔ تاہم جیسے ہی مواد کا انداز بدل کر “ماں بیٹے” یا “جوڑے” کی اشارتی کیمسٹری، یا ہلکے پھلکے جنسی اشاروں پر مبنی اسکرپٹس میں تبدیل کیا گیا تو ویوز میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا اور کئی ویڈیوز ملین ویوز تک پہنچ گئیں۔

اسی طرح فوڈ ریویوز میں بھی مبالغہ آمیز اور اشارتی انداز اپنایا گیا، جیسے پھلوں یا کھانوں کو انتہائی غلط انداز میں جنسی اشاروں کے ساتھ اور معنی خیز طور پر پیش کرنا، جس سے مواد زیادہ وائرل ہونے لگا۔ اس رجحان کے بعد اسی طرز پر متعدد نئے اکاؤنٹس بھی بننے لگے جو اسی فارمولے کو فالو کر رہے ہیں۔حال ہی میں بھارتی خواتین کامیڈینز کی جانب سے اسٹینڈاپ شوز میں تو کامیڈی کے نام پر انتہائی نامناسب مواد کو فروغ دیا گیا، جو آج تک جاری ہے۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by HideSide magazine (@hidesidemagazine)

مزید یہ کہ کچھ کریئیٹرز ڈارک کامیڈی کے نام پر انتہائی حساس موضوعات جیسے موت، تشدد، اور نجی جسمانی موضوعات کو مزاحیہ انداز میں پیش کر رہے ہیں، جس پر شدید تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔ بعض ویڈیوز میں ایسے مناظر شامل ہیں جو عمومی سماجی اخلاقیات کے لیے غیر مناسب سمجھے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس قسم کے مواد کی مقبولیت کا ایک اہم سبب سوشل میڈیا الگورتھمز ہیں جو زیادہ انگیجمنٹ والے، متنازعہ اور جذباتی ردِعمل پیدا کرنے والے مواد کو زیادہ فروغ دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں کریئیٹرز ایک “ایکسٹریمٹی سائیکل” میں داخل ہو جاتے ہیں، جہاں زیادہ ویوز کے لیے مواد بتدریج زیادہ حساس اور متنازع بنتا جاتا ہے۔

اقتصادی پہلو سے دیکھا جائے تو ایسے کریئیٹرز کو اسپانسرشپس، برانڈ ڈیلز اور فین سبسکرپشنز کے ذریعے نمایاں آمدنی حاصل ہوتی ہے، جو بعض اوقات لاکھوں روپے ماہانہ تک پہنچ سکتی ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق اس رجحان کے سماجی اثرات بھی تشویشناک ہیں۔ اس قسم کے مواد سے نوجوانوں میں حساس موضوعات کی نارملائزیشن، رویوں میں تبدیلی اور غلط تصورات کے فروغ کا خدشہ  ہے۔ بعض تحقیقاتی مشاہدات کے مطابق بار بار ایسے مواد کی نمائش سے صارفین کے اخلاقی تصورات اور رویوں پر انتہائی غلط اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مجموعی طور پر سوشل میڈیا پر وائرلٹی کا معیار تبدیل ہو رہا ہے، جہاں مواد کی کامیابی اکثر اس کی سنجیدگی یا معیار کے بجائے اس کی اشتعال انگیزی اور جذباتی اثر پر منحصر ہوتی جا رہی ہے، جو ایک اہم سماجی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

Related Posts