منی پور جیسے واقعات بھارت کے ماتھے پر داغ ہیں، فاروق عبد اللہ

تازہ ترین

تازہ ترین

 ایک جمہوری ملک میں فرقہ پرستی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی ہے لیکن بھارت میں فرقہ پرستی کا جو رجحان اس وقت جاری ہے وہ انتہائی تشویشناک اور افسوسناک ہے اور فرقہ پرستی کے نام پر منی پور جیسے پیش آرہے واقعات پوری دنیا میں بھارت کے لئے باعث ہزیمت بن رہے ہیں۔

ان باتوں کا اظہار جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے سرینگر میں ایک تقریب کے دوران وہاں موجودہ لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں فرقہ پرستی کا قلع قمع کرنے کے لئے صحیح سوچ رکھنے والوں میں اتحاد و اتفاق لازمی ہے اور اس لئے ہمیں ذاتی مفادات کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرنا چاہئے۔

یہ بھی پڑھیں:

قتیلِ تیغِ تعصب مولانا شاہ سعید احمد رائے پوری

انہوں نے کہا کہ بھارت کی سالمیت اور آزادی کے لئے سب کا ایک جٹ ہونا ضروری ہے تاکہ ایسے عناصر کے منصوبوں اور بدترین عزائم کو خاک میں ملایا جاسکے جو یہاں کے بھائی چارے کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اقلیتوں کو روندھنا چاہتے ہیں۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ اتحاد و اتفاق قوم کی بڑی فتح و نصرت سے تعبیر کی جاتی ہے جبکہ نااتفاقی ناکامی، تباہی اور بربادی کی نشاندہی ہوتی ہے، ہماری ریاست کو بھی گزشتہ 4 پانچ برسوں سے سخت ترین چیلنجوں کا سامنا ہے اور یہاں بھی لوگوں کو آپسی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر جموں و کشمیر کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ یہاں کے عوام کے جمہوری اور آئینی حقوق آئے روز سلب کئے جا رہے ہیں، ناانصافی کا دور دورہ ہے، یہاں کے نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کرنے کے لئے کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ پورے عزم، حوصلے اور صبر و استقلال سے ہی ان چیلنجوں اور آزمائشوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سخت ترین چیلنجوں میں بھی اُسی حوصلے، جذبے اور اتحاد کی ضرورت ہے، میں تینوں خطوں کے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اتحاق و اتفاق کا مظاہرہ کریں اور تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کر مل کر مقابلہ کریں اِسی صورت میں ہم کامیابی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں۔

Related Posts