کاٹن ایسوسی ایشن نے روئی کے اسپاٹ ریٹ میں فی من 300 روپے اضافہ کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

کاٹن ایسوسی ایشن نے روئی کے اسپاٹ ریٹ میں فی من 300 روپے اضافہ کردیا
کاٹن ایسوسی ایشن نے روئی کے اسپاٹ ریٹ میں فی من 300 روپے اضافہ کردیا

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے چیئرمین جاوید بلوانی کا کہنا ہے کہ روئی کے اسپاٹ ریٹ میں فی من 300 روپے کا اضافہ کردیا گیا۔ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں ملا جلا رجحان رہا ہے۔ کچھ علاقوں کے سواۓ كپاس کی فصل تسلی بخش ہے۔ ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کی بقا کیلئے كپاس کی پیداوار بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ شپمنٹ کے کرایوں میں بے تحاشا اضافے کے باعث بھارت سے ادویات کی طرح روئی کی درآمد کی اجازت دی جائے۔

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران ٹیکسٹائل ملز کی روئی کی گھبراہٹ بھری خریداری کے باعث روئی کے بھاؤ میں تیزی کا عنصر غالب رہا گو کہ نیویارک کاٹن کے وعدے کے بھاؤ میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے مقامی مارکیٹ میں بھی روئی کا بھاؤ اپر تلے ہوتا رہا لیکن مجموعی طور پر بھاؤ میں تیزی رہی۔

جاوید بلوانی کا کہنا تھا کہ نیویارک کاٹن کا بھاؤ ایک وقت بڑھ کر فی پاؤنڈ 95 امریکن سینٹ سے تجاوز کرکے 7 سال کی انچی سطح پر پہنچ گیا تھا بعد ازاں جمعرات کی شام 2.18 امریکن سینٹ کم ہوا۔ محرم الحرام کی تعطیلات کے باعث کاروباری حجم نسبتا کم رہا بہر حال جنرز اور سولڈ Over Sold کرنے کی وجہ سے وہ بھی روئی کی فروخت محتاط ہوکر کررہے تھے روئی کی خریداری کے نسبت پھٹی کی رسد بھی مناسب رہی روئی کے بھاؤ میں اضافہ کے ساتھ ساتھ پھٹی کے بھاؤ میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل ملز کے بڑے گروپوں نے اونچے داموں پر بھی بیرون ممالک سے روئی کی درآمد جاری رکھی تھی۔ روئی کے بھاؤ میں بحرانی جیسی کیفیت کے سبب صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ بڑھ کر فی من 14200 روپے کی 11 سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا بعد ازاں نیویارک کاٹن کے وعدے کے بھاؤ میں اتار چڑھاؤ کے زیراثر بھاؤ میں کمی بیشی ہوتی رہی مجموعی طور پر بھاؤ میں تیزی ہی رہی۔

چیئرمین کاٹن ایسوسی ایشن کے مطابق صوبہ سندھ میں روئی کا بھاؤ اتار چڑھاؤ کے بعد فی من 13700 تا 13800 روپے رہا پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 5500 تا 6200 روپے بنولہ کا بھاؤ فی من 1700 تا 1800 روپے رہا صوبہ پنجاب میں روئی کا بھاؤ فی من 13900 تا 14200 روپے پھٹی کا بھاؤ فی 40 کلو 5500 تا 6200 روپے بنولہ کا بھاؤ فی من 1750 تا 1850 روپے رہا صوبہ بلوچستان میں روئی کا بھاؤ فی من 13750 تا 13900 روپے رہا پھٹی کا بھاؤ 5900 تا 6300 روپے بنولہ کا بھاؤ فی من 1800 تا 1900 روپے رہا۔

کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ میں فی من 300 روپے کا اضافہ کر کے اسپاٹ ریٹ فی من 13800 روپے کے بھاؤ پر بند کیا۔

کراچی کاٹن بروکرز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ بین الاقوامی کاٹن مارکیٹوں میں مجموعی طور پر روئی کے بھاؤ میں تیزی برقرار رہی۔ نیویارک کاٹن کے وعدے کے بھاؤ میں نمایاں تیزی دیکھی گئی جو فی پاؤنڈ 95 امریکن سینٹ کو تجاوز کرکے گزشتہ 7 سالوں کی انچی سطح پر پہنچ گئی بعد ازاں اتار چڑھاؤ ہوتا رہا۔ USDA  کی روئی کی برآمدی رپورٹ میں گزشتہ ہفتہ کے نسبت کچھ کمی واقع ہوئی تاہم مارکیٹ پر اسکے منفی اثرات کہے جاسکتے ہیں حلانکہ چین اس مرتبہ بھی سب سے بڑا درآمد کنندہ رہا۔ گوکہ 23-2022 کی درآمد میں پاکستان فی الحال سرفہرست پر رہا۔ برازیل میں کپاس کی پیداوار متاثر ہونے کی وجہ سے اس کی درآمد نسبتا کم رہے گی جبکہ بھاؤ میں تیزی دیکھی گئی وسطی ایشیا کی ریاستوں افریقہ وغیرہ میں بھی روئی کے بھاؤ میں نسبتا اضافہ رہا چین میں روئی کے بھاؤ میں معمولی کمی دیکھی گئی جبکہ بھارت میں نئی فصل کی روئی کی جزوی آمد کی وجہ سے بھاؤ نسبتا مستحکم رہا۔ بھارت کی CCI کاٹن کارپوریشن آف انڈیا کے چیئرمین مسٹر اگروال نے کہا ہے کہ CCI اس سال نسبتا کم روئی خریدے گی کیونکہ روئی کا بھاؤ خاصہ بڑا ہوا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق فی الحال كپاس کی فصل تسلی بخش بتائی جاتی ہے گو کہ صوبہ پنجاب میں كپاس کی بوائی کے رقبہ میں تقریبا 9 لاکھ ایکڑ کی نمایاں کمی بتائی جاتی ہے اگر فی ایکڑ اتارا کچھ اچھا آنے کی صورت میں پیداوار نسبتا اچھی ہوسکتی ہے بہر حال صوبہ سندھ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق فی الحال پیداوار تسلی بخش ہے جبکہ عمر کوٹ سے کپاس کے بیوپاری اور زمیندار گوما مل سیٹھ کے مطابق شروع میں فصل بہت عمدہ تھی لیکن بارش کم ہونے کی وجہ سے پودوں کی بڑھوتری نہیں ہو سکی۔ علاوہ ازیں عمرکوٹ میں کپاس کی فصل پرگلابی سنڈی نے حملہ کر دیا ہے۔جبکہ ڈگری کے کپاس کے بیوپاری اور میر پور خاص تاجر یونین کے نائب صدر حاجی یونس میمن نے بتایا کہ ڈگری میں فی الحال کپاس کی فصل گزشتہ سال کی نسبت عمدہ کہی جا سکتی ہے انہوں نے کہا کہ اس سال ڈگری کے علاقوں سے نومبر دسمبر تک پھٹی کی رسد ہونے کا امکان ہے۔ نوابشاہ بے نظیر آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اس کے گردونواح میں کپاس کی فصل گزشتہ سال کی نسبت بہتر ہے۔ اپر سندھ اور روہڑی صالح پٹ میں بھی فصل تسلی بخش بتائی جاتی ہے۔ ڈھرکی گوٹکی وغیرہ کے علاقوں میں بھی فصل کی بوائی اچھی بتائی جاتی ہے۔

علاوہ ازیں ملبوسات کے شعبے کے مطابق ، سمندری مال برداری میں تیزی سے اضافہ ، کارگو جہازوں اور کنٹینرز کی کمی کے علاوہ ، شپمنٹ کی ترسیل کی مدت میں 90 دن تک کا اضافہ ہوا ہے۔

اس میں کہا گیا ہے کہ سمندری جہاز کی تجارت کے مال بردار اخراجات 700 فیصد بڑھ گئے ہیں جن میں کنٹینروں اور جہازوں کی کمی ہے جس کی وجہ سے کارگو کی ترسیل میں 45 دن سے 90 دن تک سست روی آئی ہے۔

اس طرح کے بحران کے دوران ، پاکستان کے ویلیو ٹیکسٹائل سیکٹر کو برآمدات کے احکامات کی آخری تاریخ کو پورا کرنے کے لیے تاخیر سے ترسیل کے لیے روئی اور سوت کی درآمد کے مسائل کا سامنا ہے۔

جاوید بلوانی چیئرمین نے کہا کہ کپاس اور کاٹن یارن درآمد کرنے کا سب سے مختصر راستہ بھارت سے زمینی راستہ سے اور دوسرا ازبکستان سے ہے۔”

پاکستان اپیرل فورم نے منگل کو کہا کپاس اور اس کے سوت کی درآمد کو بھارت سے اجازت دی جانی چاہیے، ادویات پہلے ہی واہگہ بارڈر زمینی راستے سے لائی جا رہی ہیں۔ ملک کے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کو پاکستان میں کوویڈ 19 کی بہتر صورت حال سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے تاکہ وہ اپنی مسابقتی ممالک کے مقابلے میں عالمی منڈیوں میں ملبوسات کی زیادہ برآمدات کر سکے۔

لیکن اب ، بنگلہ دیش ، بھارت ، سری لنکا اور ویت نام جیسی مسابقتی ممالک میں کوویڈ 19 کے حالات کو بہتر بنانا عالمی سطح پر پاکستان کے لیے سخت چیلنج ہے کیونکہ مقامی مارکیٹ ان پٹ کے لیے ناقابل قبول قیمت پیش کرتی ہے۔

دنیا کے تمام ٹیکسٹائل برآمد کرنے والے ممالک میں ، کپاس اور اس کے سوت ، بجلی ، گیس ، پانی ، مزدوروں کی اجرت ، بندرگاہ کے اخراجات اور مقامی نقل و حمل کی قیمتیں پاکستان میں نسبتا زیادہ ہیں۔

ٹیکسٹائل برآمد کنندگان اپنی کوششوں سے مالی سال 21-2020 کے دوران 15.40 بلین ڈالر مالیت کی ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کرنے کے قابل ہیں کیونکہ ملک میں کوویڈ کی بہتر صورتحال ہے ، کیونکہ صنعتیں لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسٹائل کا شعبہ مجموعی قومی برآمدات میں 60 فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتا ہے اور سب سے زیادہ زرمبادلہ کماتا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ یہ شعبہ بہت زیادہ روزگار فراہم کرتا ہے لیکن حکومت کی توجہ کا مستحق نہیں ہے۔

حکومت کو کپاس کی پیداوار ، کاشت کے علاقے اور کپاس کی پیداوار پر توجہ دینی چاہیے تاکہ پوری ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل چین کو سہارا دیا جا سکے کیونکہ کپاس اور کاٹن یارن ٹیکسٹائل برآمدی شعبے کی بقا اور ترقی کے لیے بنیادی خام مال ہیں۔ .

کپاس کی پیداوار میں کمی نے ملک کے ملبوسات کے شعبے کے لیے مقامی مارکیٹ میں کاٹن یارن کی عدم دستیابی کا سامنا کرنا مشکل بنا دیا ہے۔

بڑھتا ہوا بحران حکومت سے فوری توجہ کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ مقامی ، کپاس کی پیداوار بڑھانے کے لیے ٹھوس پالیسی کے ساتھ مختصر ، درمیانی اور طویل مدتی اقدامات کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔

حکومت کسانوں کو مفت اعلی معیار کے جی ایم کپاس کے بیج فراہم کرے۔ بیجوں میں ایک ٹاکسن ہوتا ہے جو منتخب کیڑوں کو مارتا ہے اور بہتر پیداوار کے لیے فصلوں کی مدد کرتا ہے۔

کاشتکاروں کو حکومت کی جانب سے رعایتی نرخوں پر کھاد اور کیڑے مار ادویات بھی فراہم کی جائیں۔

یہ بھی پڑھیں : مینار پاکستان ہراسگی کیس، گرفتار ملزمان نے ٹک ٹاکر عائشہ کی گرفتاری کا مطالبہ کردیا

Related Posts