بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں پر کام شروع کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو فائل)

بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے معطل کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیرمیں دو ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ بھارت نے آبی ذخائر کی گنجائش میں اضافے کیلئے دو ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں پر کام کررہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کیلئےفلشنگ (صفائی) کا عمل بھارت کی سب سے بڑی سرکاری ہائیڈرو پاور کمپنی این ایچ پی سی لمیٹڈ نے انجام دیا۔

بھارت کے سینٹرل واٹر کمیشن کے سابق سربراہ کشویندر ووہرا کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے بعد بھارت اب اپنے منصوبوں کو اپنی مرضی سے آگے بڑھا سکتا ہے۔

بھارت کے وزیرِ آب نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ دریائے سندھ کے پانی کا ایک قطرہ بھی پاکستان نہ پہنچے۔

یاد رہے کہ اسلام آباد نے سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے، پاکستان کا پانی روکنے یا اس کا رخ موڑنے کی کسی بھی کوشش کو جنگی عمل تصور کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ بھارت نے پاکستان کو سلال اور بگلیہار منصوبوں پر کام کے بارے میں مطلع نہیں کیا جو بالترتیب 1987 اور 2008میں ان کی تعمیر کے بعد پہلی بار ہو رہا ہے کیونکہ معاہدے نے اس طرح کے کام کو روک دیا تھا۔

Related Posts