بھارت کی ریاست اتر پردیش صوبے کے مراجھ گنج ضلع سے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مقامی بااثر شخص ایک 16 سالہ لڑکی کو اپنی شادی کی خواہش پر اغوا کر لیا اور اس کے انکار پر نہ صرف اس پر تشدد کیا بلکہ اس کی ویڈیو بھی بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی گئی۔
یہ واردات انسانی اقدار کو شدید چیلنج کرنے والی ہے اور مقامی افراد سمیت سوشل میڈیا پر لوگ ریاستی حکومت اور پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ملزم پہلے سے شادی شدہ ہے اور اس کے چار بچے بھی ہیں لیکن اس کے باوجود اس نے نابالغ لڑکی سے شادی کرنے کی کوشش کی۔ لڑکی کے انکار پر اسے اغوا کر لیا گیا، جہاں اس پر تشدد کیا گیا اور اس کی ویڈیو بنا سوشل میڈیا پر پھیلا دی گئی۔ یہ ویڈیو اب وائرل ہو چکی ہے جس نے لوگوں میں غم و غصے کی لہر بہا دی ہے۔
Look at the age of this girl. She has been brought here by a poultry butcher from Maharajganj district. He is already married and has four children, yet he still wants to marry her.
Spread it, until the girl is safely returned to her home.#Butcher pic.twitter.com/C25CJYR7IC
— Oxomiya Jiyori 🇮🇳 (@SouleFacts) December 14, 2025
سوشل میڈیا پر صارفین اور مقامی افراد ریاستی حکومت اور پولیس حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ملزم کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے اور لڑکی کو محفوظ طریقے سے بازیاب کرایا جائے۔ لوگ اسے ایک سنگین انسانیت سوز جرم قرار دے رہے ہیں اور انصاف کی فوری فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر خواتین کی حفاظت اور نابالغ لڑکیوں کے حقوق پر بڑے سوالات اٹھا رہا ہے۔ پولیس کی جانب سے اب تک کیسے کارروائی کی گئی ہے اس سلسلے میں کوئی تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئیں لیکن امید کی جاتی ہے کہ جلد ہی ملزم کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
بھارت میں بچوں کے ساتھ ظلم و ستم کی بڑھتی ہوئی وارداتیں
بھارت میں کم عمر لڑکیوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے مظالم کا حصہ ہے۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ملک میں ہر سال ہزاروں لڑکیاں جبراً شادی، اغوا، جنسی استحصال اور دیگر مظالم کا شکار ہوتی ہیں۔ کئی مرتبہ والدین کی مرضی کے بغیر یا زبردستی شادیوں کے ذریعے انہیں نقصان پہنچایا جاتا ہے اور پولیس یا حکومتی اقدامات اکثر دیر سے یا ناکافی ہوتے ہیں۔
سوشل اور انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرتی بیداری اور فوری قانونی کارروائی ہی کم عمر لڑکیوں کی حفاظت کا واحد راستہ ہے۔ اس ضمن میں شہریوں کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ ایسے واقعات کی اطلاع دیں اور متاثرہ بچوں کو فوری تحفظ فراہم کرنے میں مدد کریں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








