نئی دہلی: چین اور بھارت کے درمیان جنگ کے سائے مزید گہرے ہونے لگے ہیں۔ بھارت نے چین کی سرحدوں پر مزید 50 ہزار کے لگ بھگ فوجی تعینات کر دیئے ہیں۔ نئی تعیناتی کے بعد چینی سرحدوں پر تعینات بھارتی فوجوں کی تعداد 2 لاکھ کے قریب ہو گئی ہے۔ ادھر چین نے بم پروف بنکرز کی تعمیر شروع کردی ہے۔
امریکی اخبار بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوجی ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران چینی سرحد کیساتھ 3 مختلف مقامات پر مزید فوج کے علاوہ جنگی طیاروں کے متعدد سکواڈرن بھی منتقل کئے گئے ہیں، جس کے بعد چینی سرحدوں پر تعینات فوجیوں کی مجموعی تعداد 2 لاکھ کے لگ بھگ ہو چکی ہے۔
بھارتی فوج اور وزیراعظم آفس کے ترجمان نے رابطے پر رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی نے حال ہی میں تبت سے مزید فوج سنکیانگ ملٹری کمانڈ منتقل کی ہے جو ہمالیہ کے علاقے میں پٹرولنگ کی ذمہ دار ہے۔
دوسری جانب غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق چین جنگی طیارے رکھنے کیلئے نئے رن وے اور بم پروف بنکرز کے علاوہ تبت کی متنازعہ سرحد پر نئے ایئر فیلڈز بھی تعمیر کر رہا ہے۔
بیجنگ نے گزشتہ چند ماہ کے دوران طویل رینج والے بھاری ہتھیاروں، ٹینکوں ، راکٹ رجمنٹس اور ٹوئن انجن فائٹر طیاروں کا بھی اضافہ کیا ہے۔
ادھر ترجمان چینی وزارت خارجہ نے پریس بریفنگ کے دوران مزید فوجی تعیناتی سے متعلق سوال پرکہا کہ چین اور بھارت کے مابین موجودہ سرحدی صورتحال مستحکم ہے، دونوں ملک سرحدی مسائل کے حل کیلئے بات چیت کر رہے ہیں۔
بھارتی نیوی کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ مشرقی ریاست اروناچل پردیش میں فوج کی معاونت کیلئے فرانسیسی رافیل طیارے تعینات کئے گئے ہیں جو طویل رینج میزائلوں سے لیس ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، آرمی چیف
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








