امریکی جریدے فارن پالیسی کے آرٹیکل میں ایران جنگ میں پاکستان کی افہام و تفہیم کی کاوشوں اور اسلام آباد میں 4ملکی اجلاس کی صدارت سمیت دیگر اقدامات پر مثبت تجربہ کرتے ہوئے اعتراف کیا گیا ہے کہ بھارت مشرق وسطیٰ مذاکرات سے باہر ہے جبکہ پاکستان خطے میں قیام امن کیلئے اپنا کردار ادا کرنے والا بڑا کھلاڑی بن گیا۔
تفصیلات کے مطابق فارن پالیسی میگزین میں بھارتی صحافی و تجزیہ کار سوشانت سنگھ کے مضمون میں یہ اعتراف کیا گیا کہ سفارتی محاذ پر پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں ناک آؤٹ شکست کا سامنا ہے۔ مضمون میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایران اور امریکا کے مابین پاکستان کی ثالثی بھارت کیلئے کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں۔
فارن پالیسی میگزین میں شائع مضمون میں بھارتی صحافی نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نہیں بلکہ پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر عالمی سفارت کاری کا مرکز بن گئے۔ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں سفارت کاری سے اپنے کردار میں اضافہ کیا جس سے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل ہوگیا ہے۔
مضمون میں سوشانت سنگھ نے کہا کہ چین سے تعلقات برقرار رکھتے ہوئے پاکستان کی سفارتی اہمیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ امریکی حکومت کے ساتھ اثر و رسوخ کمزور پڑنے پر مودی حکومت کو سبکی کا سامنا ہے۔ پاکستان کو عالمی طور پر تنہا کرنے کا منصوبہ ناکام ہوگیا اور اب عالمی طاقتیں پاکستان کو نظر انداز نہیں کرسکتیں۔
آرٹیکل کے مطابق مودی کی خارجہ پالیسی ہر محاذ پر ناکام ہوئی۔ پاکستان نے ایک بار پھر 1971 جیسا سفارتی کردار حاصل کرلیا۔ پاکستان امریکا، چین، ایران اور خلیجی ممالک کے مابین پل بن گیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے مودی کی بجائے پاکستان پر اعتماد کیا۔ ملک کی کامیاب سفارت کاری نے بھارتی بیانیہ ختم کردیا۔بھارت صرف بیانات تک محدود ہے جبکہ پاکستان عملی سفارت کاری کررہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








