دوحہ: طالبان وفد نے دوحہ میں انڈین سفارتکار دیپک متل سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے موقعے پر دیپک متل کا کہنا تھا کہ افغانستان کی سر زمین کا استعمال کسی بھی طرح سے ہندوستان مخالف سرگرمیوں کے لیے نہ کیا جائے گا۔
انڈیا میڈیا کے مطابق افغانستان سے امریکہ کی واپسی کے فوراً بعد طالبان نے ہندوستان کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے۔ انڈین وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے چیف شیر محمد عباس اسٹینکزئی نے ایک وفد کے ساتھ قطر میں ہندوستانی سفیر دیپک متل سے ملاقات کی۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس ملاقات میں افغانستان میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کی سیکورٹی اور جلد واپسی کو لے کر بات چیت ہوئی۔
انڈین وزارت داخلہ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ ملاقات طالبان وفد کی درخواست پر کی گئی ہے۔ ملاقات میں افغانستان میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کی سیکورٹی اور جلد گھر واپسی پر بات چیت ہوئی۔ افغان شہریوں، خصوصً اقلیتوں، جو ہندوستان کا سفر کرنا چاہتے ہیں، کے سفر کو لے کر بھی بات چیت ہوئی۔
اس موقع پر طالبان کے سیاسی دفتر کے چیف شیر محمد عباس کا کہنا تھا کہ ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ تمام ایشوز سے مثبت طریقے سے نمٹا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے چیف شیر محمد عباس اسٹینکزئی، جنھیں شیرو کے نام سے جانا جاتا ہے، انھوں نے 1982 میں ہندوستانی فوجی اکادمی میں فوجی تربیت حاصل کی تھی اور وہ طالبان حکومت کے دوران نائب وزیر صحت کے عہدہ تک پہنچ چکے ہیں۔
شیر محمد عباس طالبان حکومت کے خارجہ معاملوں کے نائب وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ 58 سالہ پشتون اسٹینکزئی قبیلے سے تعلق ہے ۔ وہ پانچ زبانیں بولنے کے ماہر ہیں ۔ انھوں نے 19-2015 کے درمیان طالبان کے سیاسی دفتر کے چیف کی حیثیت سے کام کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : آزادانہ اور شفاف انتخابات کے بغیر ملک میں جمہوریت کا تصور نہیں، فواد چوہدری
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








