نئی دہلی: اپنے مطالبات کے حصول کے لئے گزشتہ 100دنوں سے بھارتی کسان سراپا احتجاج ہیں، کل بھارت کی مصروف ترین شاہراہیں بند کر دی جائیں گی، دلی کے دھرنوں میں مستقل رہنے کی تیاریاں کر لی گئیں۔
بھارتی کسانوں نے احتجاج کے سو روز مکمل کر لیے، کم ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارتی حکومت نے دلی کے دھرنوں میں مظاہرین کیلئے پانی کی سپلائی روکنے کا عمل شروع دیا ہے، کاشکاروں نے اپنے واٹرپمپ لگا لئے۔ کسان رہنما راکیش کا کہنا ہے کہ لڑائی لمبی چلے گی، سرکار سے بات چیت کا کوئی امکان نہیں۔
مودی سرکار پر کسانوں کا غصہ بجا ہے، انہیں سردی، گرمی، اور بارشوں میں رکھا گیا۔ مظاہرین نے کہا ہے کہ دھرنوں میں مستقل رہا جائے گا، سنگھو بارڈر پر لکڑی کی جگہ لوہے کے راڈ لگانے شروع کر دیئے، گرمی سے بچنے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں، پنکھے اور اے سی لگائے جا رہے ہیں۔
کاشتکاروں نے کہا ہے کہ اگر احتجاج کا سلسلہ جاری رہا تو بڑی کمپنیاں سب کچھ کھا جائیں گی، بھارت میں اناج کا بحران پیدا ہوجائے گا۔