نئی دہلی: بھارتی سپریم کورٹ نے جانوروں کو ذبح کرنا بند کرکے لیبارٹری سے بنائے گئے گوشت کو متبادل قرار دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دئیے ہیں کہ جانوروں کا ذبیحہ خود بھارتی آئین کے تحت جائز ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے جانوروں کو ذبح کرنے پر پابندی عائد کرنے اور لیبارٹری سے تیار کردہ گوشت متبادل بنا کر کھانے کی درخواست پر غور تک کرنے سے انکار کردیا۔ جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس بی وی ناگرتنا کے 2 رکنی بینچ نے سماعت کی۔
یوکرین سے اناج کی برآمد، روس معاہدے میں توسیع کیلئے راضی
بھارتی سپریم کورٹ نے ریمارکس دئیے کہ قانون تو خود کھانے کیلئے جانوروں کے ذبیحے کی اجازت دیتا ہے۔ کوئی پالیسی قانون کے برعکس کیسے تشکیل دی جائے؟ آپ کی درخواست کی بنیاد تو یہ ہے کہ جانوروں پر ظلم نہیں ہونا چاہئے۔ عدالت سے آپ کا سوال کیا ہے؟
سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ کیا حکومت موجودہ قانون کے خلاف پالیسی بنا بھی سکتی ہے؟ ہم کسی قانون کے خلاف ایگزیکٹو کارروائی نہیں کرسکتے۔ جسٹس ناگرتنا نے کہا کہ ملک کی بڑی آبادی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے گوشت کھانے پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔
درخواست گزار سے کہا گیا کہ بھارت کی آبادی دیکھئے، کیا واقعی آپ یہاں گوشت کھانے پر پابندی لگانے کی خواہش رکھتے ہیں؟ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ میری استدعا پابندی لگانے کیلئے نہیں ہے۔ میں کہہ رہا ہوں کہ جانوروں کو قتل نہ کریں، متبادل ذرائع اختیار کر لیں۔
ایک سروے کے مطابق بھارت میں 28 فیصد افراد سبزی خور جبکہ باقی 72 فیصد مکمل یا جزوی طور پر گوشت خور ہیں۔عدالتِ عظمیٰ بھارت نے تجویز دی کہ درخواست واپس لے لی جائے جبکہ جانوروں کے ذبیحہ سے درخواست گزار سچن گپتا کا اپنا کوئی بنیادی حق متاثر نہیں ہوا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








