نیٹ فلکس پر جاری انڈونیشین فلم ’’نورما‘‘ ایک حقیقی جنسی اسکینڈل پر مبنی ہے جس نے پہلے سوشل میڈیا پر اور پھر سینما گھروں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
یہ فلم مارچ 2024 میں انڈونیشیا کے سینما گھروں میں ریلیز ہوئی اور اگست میں نیٹ فلکس پر پیش کی گئی، جہاں اسے نہ صرف انڈونیشیا بلکہ ملیشیا اور سنگاپور میں بھی بڑی تعداد میں دیکھا گیا۔
اس کہانی کی بنیاد سنہ 2022 کا ایک حقیقی واقعہ ہے، جب جاوا کے شہر سیرانگ کی خاتون نورما رسما نے ایک ٹک ٹاک ویڈیو میں انکشاف کیا کہ اس کے شوہر اور ماں کے درمیان خفیہ تعلقات ہیں۔
یہ انکشاف تیزی سے وائرل ہوگیا، لاکھوں بار دیکھا گیا اور ملکی و بین الاقوامی میڈیا میں شہ سرخیوں کی صورت اختیار کر گیا۔ اسی ہنگامہ خیز واقعے کو بعد میں فلمی انداز میں ڈھالا گیا اور ’’نورما‘‘ کے نام سے پیش کیا گیا۔
کون سی بااثر شخصیت نے کاسٹنگ کاؤچ کی پیشکش کی؟ اداکارہ دعا ملک کی پوشیدہ داستان
انڈونیشیا کی فلمی صنعت میں سوشل میڈیا اسکینڈلز پر مبنی فلمیں بنانے کا رجحان پہلے بھی موجود رہا ہے۔ سنہ 2022 میں ریلیز ہونے والی ہارر فلم ’’کے کے این دی دیسا پناری‘‘ ایک مشہور ایکس (ٹوئٹر) تھریڈ سے متاثر ہو کر بنائی گئی تھی، جبکہ ’’سیو دینو‘‘ بھی ایک وائرل کہانی پر مبنی تھی۔
تاہم ’’نورما‘‘ کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کی اصل متاثرہ خاتون نورما خود بھی فلم کی تخلیقی تیاری کے عمل میں شریک رہیں، تاکہ کہانی زیادہ سچائی کے قریب رہے۔
نورما اس وقت اپنے آبائی شہر سیرانگ میں بطور آؤٹ سورسڈ ورکر زندگی گزار رہی ہیں، جبکہ ان کی ماں ریحانہ اور سابق شوہر روزی کو عدالت کی جانب سے قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔
فلم نے بے وفائی، خاندانی سکینڈل اور سماجی تجسس جیسے موضوعات کو اجاگر کرتے ہوئے پورے خطے میں شائقین کو اپنی گرفت میں لے لیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








