راولپنڈی:ضلع سرگودھا کی رہائشی نسرین مصطفی کا کہنا ہے کہ میں ایل ایل بی فائنل ایئر کی طالبہ ہوں اور قائد اعظم لا کالج سرگودھا میں زیر تعلیم ہوں میرے دو بھائی بیرون ملک مقیم ہیں چار سال قبل میرے والد غلام مصطفی کے خلاف چند افراد نے جھوٹے مقدمات درج کرا کر انہیں لاہور کوٹ لکھپت جیل بھجوادیا میں اور میری والدہ گھر میں اکیلے ہی رہتی تھی۔
اس دوران میں نے اپنے والد سے ملاقات کی اور میرے والد نے مجھے کہا کہ مظاہر کلیار سرگودھا میں میرے قابل اعتبار دوست ہیں تم نے کہیں آنا جانا ہو یا کوئی مسئلہ ہو تو اس کے ساتھ شیئر کر لینا تو اس دوران میں مئی 2016 کے آخری میں اپنے والد کی موٹرسائیکل جوتھانہ کینٹ سرگودھا میں بند تھی مظاہر کلیار کے ساتھ تھانہ کینٹ سرگودہا موٹر سائیکل لینے گئی۔
وہاں سے فارغ ہونے کے بعد مظاہر کلیار اور شوکت بلوچ جو کے مظاہر کلیار کا دوست ہے دونوں نے اپنی فیملی سے ملوانے کے بہانے مجھے اپنے کنٹرول شیڈ لے گیا اور وہاں مجھے نشہ آور چیز پلائی جس سے میں بے ہوش ہوگئی،اس دوران دونوں ملزمان میرے ساتھ زنا بالجبر کرتے رہے اور ساتھ ہی میری برہنہ ویڈیوز اور تصاویر بناتے رہے۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








