راولپنڈی: قتل کیس میں مقتول خاندان سے صلح کرانے کے لئے کردار ادا نہ کرنے پر بااثر شخص نے غریب محنت کش خاندان کی زندگی اجیرن بنا دی۔ تھانہ بہارہ کہو میں جھوٹی درخواست دیکر حوالات میں بند کروا دیا گیا۔
بعدازاں قتل کی دھمکیاں دیتے ہوئے غریب خاندان کو انصاف کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر دیا۔ متاثرہ خاندان نے انصاف اور تحفظ کے لئے پولیس چوکی تریٹ کو درخواست دی تو تفتیشی آفیسر اے ایس آئی رضوان ملزم پارٹی کے ساتھ مل گیا۔
متاثرہ خاندان کو صلح نہ کرنے کی صورت میں جھوٹے مقدمے میں بند کرنے کی دھمکیاں۔ متاثرہ خاندان نے سی پی او راولپنڈی سے نوٹس لینے اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مانگا مری کے رہائشی محنت کش سردار حسین نے بتایاکہ میں اپنی اہلیہ اور تین بچوں کے ہمراہ رہتا ہوں۔آج سے تقریباً چودہ سال قبل میرے سگے بھانجے 20 سالہ اسرار کو روات کی حدود میں بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔
جس کی لاش کی شناخت نہ ہونے پر پولیس نے امانتاً دفنا دی تھی۔بعدازاں شناخت ہو جانے پر پولیس کی موجودگی میں لاش آبائی علاقہ لے جاکر تدفین کر دی گئی۔ میرے بھانجے کو میرے کزن بخت زیب نے قتل کروایا تھا۔ جو اسلام آباد میں ٹھیکیداری کرتا ہے۔
اس کیس میں مقتول خاندان کے ساتھ صلح نہ ہونے پر ملزم بخت زیب مجھ پر دباؤ ڈالتا رہاکہ میں مقتول خاندان سے بات کرکے ان کے مابین صلح کروا دوں۔لیکن میں اس کام کے لئے تیار نہ ہوا۔جس پر وہ میرا بھی دشمن بن گیا۔
بااثر ٹھیکیدار بخت زیب اپنی بیوی کا بھی قاتل ہے۔بااثر شخص نے میرے سسرالیوں کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ان لوگوں نے پہلے مجھے تھانہ بہارہ میں ایک جھوٹی درخواست پر حوالات میں بند کروا دیا۔اب وہ میری اور میری اہلیہ کی جان کے درپے ہیں۔
چند روز قبل اس نے مجھے دھمکی دی کہ میں تمہاری بیوی کو جان سے مارنے کے بعد تمہیں اپنی بیوی کے قتل میں پھنسا دوں گا۔جس پر ہم نے اپنے تحفظ کے لئے پولیس چوکی تریٹ کو تحریری درخواست دی۔ یہ درخواست میری اہلیہ مریم بی بی کی طرف سے دی گئی تھی۔
پولیس چوکی تریٹ میں تعینات تفتیشی آفیسر اے ایس آئی رضوان نے ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بجائے الٹا ہمیں ذلیل و خوار کرنا شروع کر دیا۔ تفتیشی آفیسر رضوان نے جرگہ کرانے کے نام پر صلح کے لئے دباؤ ڈال رہا ہے۔
تفتیشی آفیسر نے میرے بزرگ والد 70 سالہ سلیم خان کو بھی 107/151 میں بند کرنے کی کوشش بھی کی۔ میری سی پی او راولپنڈی سے مطالبہ ہے کہ ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔
متاثرہ خاندان کے 70 سالہ بزرگ سلیم خان نے بتایاکہ ٹھیکیدار بخت زیب کے جرائم پیشہ افراد کے ساتھ تعلقات ہیں۔وہ اپنی بیوی کا قاتل ہے اور بیس سالہ نوجوان اسرار کو بھی اسی نے قتل کروایا۔اب ہمارے خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔
مزید پڑھیں:عباسی اسپتال میں چوری کی وارداتوں میں اضافہ، انتظامیہ سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکام
پولیس چوکی تریٹ کو جان کے تحفظ کے لئے درخواست دی تو پولیس نے الٹا ہمیں ہراساں کرنا شروع کر دیا ہے۔اے ایس آئی رضوان ٹھیکیدار بخت زیب کی حمایت میں ہمیں جھوٹے مقدمے میں پھنسانے کی کوشش کر رہا ہے۔مجھے حوالات میں بھی بند کر دیا تھا۔سی پی او راولپنڈی ہمیں انصاف اور تحفظ فراہم کرئے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








