فوٹو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام نے حال ہی میں ایک نیا ’’میپ‘‘ فیچر متعارف کرایا ہے جو صارف کا آخری معلوم مقام دکھاتا ہے۔ یہ فیچر اگرچہ صارفین کو ’’جڑے رہنے‘‘ کا ایک نیا طریقہ فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے، لیکن اس نے عالمی سطح پر پرائیویسی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
انسٹاگرام نے وضاحت کی ہے کہ یہ فیچر ’’آپٹ اِن‘‘ بنیاد پر کام کرتا ہے، یعنی ڈیفالٹ طور پر بند رہتا ہے اور اس میں نوجوان صارفین کے لیے خصوصی حفاظتی اقدامات شامل ہیں جن میں والدین کو الرٹس اور پرائیویسی سے متعلق یاد دہانیاں شامل ہیں تاہم کئی صارفین کا کہنا ہے کہ ان کی لوکیشن میپ پر ظاہر ہوئی، حالانکہ انہوں نے یہ فیچر فعال نہیں کیا تھا، جس سے ممکنہ تکنیکی خرابی یا بیک ڈور ٹریکنگ پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
انسٹاگرام کے سربراہ ایڈم موسیری نے وضاحت کی ہے کہ لوکیشن شیئرنگ صرف اس وقت ہوتی ہے جب صارفین خود اس کو فعال کریں اور یہ فیچر ریئل ٹائم ٹریکنگ فراہم نہیں کرتا بلکہ صرف اس آخری مقام کو ریکارڈ کرتا ہے جہاں ایپ کھولی گئی ہو۔
پرائیویسی ماہرین اور ڈیجیٹل سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ چاہے لوکیشن تاخیر سے ہی کیوں نہ شیئر ہو، یہ خواتین، بچوں اور کمزور صورتحال میں موجود افراد کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ ایسے فیچرز میں صارف کی واضح رضامندی، آسان کنٹرول اور مضبوط ڈیفالٹ سیٹنگز ضروری ہیں۔
انسٹاگرام نے صارفین کے لیے پرائیویسی سیٹنگز میں میپ فیچر کو مکمل طور پر بند کرنے کا آپشن فراہم کیا ہے اور مشورہ دیا ہے کہ شیئرنگ کی اجازت صرف قابلِ اعتماد افراد کو دی جائے۔
یہ نیا فیچر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے صارفین کے ڈیٹا اور ذاتی سکیورٹی کے درمیان توازن پر بحث تیز ہو چکی ہے۔ انسٹاگرام کا ’’میپ‘‘ فیچر اب اس بحث کا نیا مرکز بن گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








