شرح سود کافیصلہ پیر کو ہوگا، مالیاتی منڈیوں کی نظریں کراچی پر

تازہ ترین

تازہ ترین

State Bank of Pakistan Announces Monetary Policy: Interest Rate Maintained at 11%
(فوٹو؛ فائل)

اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی) پالیسی کمیٹی کا اگلا اجلاس پیر، 16 جون 2025 کو منعقد ہوگا جس میں ملک کی شرح سود (پالیسی ریٹ) کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔

مانیٹری کمیٹی کے اجلاس کے بعد اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایک پریس ریلیز کے ذریعے باقاعدہ مانیٹری پالیسی بیان جاری کیا جائے گا۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی میں گورنر اسٹیٹ بینک، ڈپٹی گورنر، اور ماہرین معاشیات سمیت 9 ارکان شامل ہوتے ہیں۔ یہ کمیٹی ہر دو ماہ بعد میٹنگ کرتی ہے تاکہ معاشی اشاریوں کے مطابق مالیاتی پالیسی کی سمت کا تعین کیا جا سکے۔

اس پالیسی فیصلے کو ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں، بینکاری نظام، کاروباری برادری اور عام صارفین کی جانب سے گہری توجہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ یہ فیصلہ نہ صرف مہنگائی کے رجحان کو متاثر کرے گا بلکہ مجموعی معاشی سمت کا تعین بھی کرے گا۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، گزشتہ چند ہفتوں میں مہنگائی کی رفتار میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے، جس سے امید کی جا رہی ہے کہ اسٹیٹ بینک شرح سود میں تھوڑا سا نرمی لا سکتا ہے تاہم کرنسی مارکیٹ میں غیریقینی کیفیت، زرمبادلہ کے ذخائر میں دباؤ، اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے چیلنجز کے باعث پالیسی میں احتیاط برتنے کا امکان زیادہ ہے۔

یاد رہے کہ مارچ 2025 کی آخری مانیٹری پالیسی میں اسٹیٹ بینک نے شرح سود کو 22 فیصد پر برقرار رکھا تھا، جس کا مقصد مہنگائی پر قابو پانا اور مالیاتی استحکام کو تقویت دینا تھا۔ اس بار کا فیصلہ بجٹ 2025-26 کے پس منظر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

کاروباری طبقے کا مطالبہ ہے کہ شرح سود میں کمی لائی جائے تاکہ صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے اور قرضوں پر سودی بوجھ کم ہو۔ دوسری جانب، عام صارفین بھی توقع کر رہے ہیں کہ مالیاتی پالیسی میں کچھ آسانی پیدا ہو تاکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام آسکے۔

Related Posts