پاکستان سمیت دُنیا بھر میں جارحیت کا شکار معصوم بچوں کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے جس کا مقصد دماغی و جسمانی تشدد کے باعث مختلف مسائل کا شکار بچوں کے مسائل اُجاگر کرنا اور ان کا حل تلاش کرنا ہے۔
دردناک حقیقت یہ ہے کہ کورونا وائرس جیسی عالمی وباء کی روک تھام کیلئے نافذ لاک ڈاؤن کے دوران بے گھر بچوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں جبکہ عالمی برادری میں شامل دنیا کا کوئی ملک ظلم و تشدد سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے بچوں کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھا رہا۔
دُنیا بھر میں مختلف ممالک خانہ جنگی، محلاتی سازشوں اور عالمی جنگوں کی زد پر ہیں جبکہ جنگوں کے نتائج سے سب سے زیادہ بچے ہی متاثر ہوتے ہیں۔ بچوں کو قتل کرنا، جنسی زیادتی، اغواء، اسکولوں اور ہسپتالوں پر حملے اور طبی امداد روکنے جیسے عوامل جنگوں کے دوران عام ہوچکے ہیں۔
فلسطین کے تاریخیِ پس منظر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے 19 اگست 1982ء کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ہر سال 4 جون کا دن جارحیت کا شکار بچوں کے عالمی دن کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا جبکہ دنیا بھر میں کشمیر اور فلسطین کے بچے سب سے زیادہ ظلم و ستم کا شکار ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر پر غاصب بھارت کا قبضہ ہے جبکہ فلسطین کے مظلوم عوام مسلسل اسرائیل کے اسلحہ بارود کی زد پر رہتے ہیں۔ بچوں کا جسمانی، معاشی اور دماغی استحصال معمول بن چکا ہے جبکہ یہ عالمی دن اقوامِ متحدہ کو بچوں کے حقوق پر کام تیز کرنے کی یاد دہانی کے طور پر پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔