دماغی صحت کا عالمی دن اور دُنیا بھر میں نفسیاتی بیماریوں کے تشویشناک حقائق

تازہ ترین

تازہ ترین

دماغی صحت کا عالمی دن اور دُنیا بھر میں نفسیاتی بیماریوں کے تشویشناک حقائق
دماغی صحت کا عالمی دن اور دُنیا بھر میں نفسیاتی بیماریوں کے تشویشناک حقائق

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتیں عطا فرمائیں جن میں سے صحت سب سے بڑی نعمت ہے جبکہ دماغ انسانی جسم کا وہ حصہ ہے جو پورے جسم کو کنٹرول کرتا ہے۔

پاکستان سمیت دُنیا بھر میں دماغی صحت کا عالمی دن آج منایا جارہا ہے جس کا مقصد دُنیا بھر میں نفسیاتی بیماریوں کے تشویشناک حقائق پر شعور اجاگرکرنا ہے۔

آئیے عالمی دن منانے کے مقاصد کے ساتھ ساتھ دماغی صحت کے اعدادوشمار کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ دُنیا بھر میں کتنے افراد ذہنی مسائل کا شکار ہیں اور ایسے مسائل سے بچنے کیلئے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔

ذہنی صحت کی اہمیت 

دماغی صحت اور نفسیاتی بیماریاں بعض اوقات نظر نہیں آتیں لیکن اچانک ہماری زندگی کو اِس طرح متاثر کرتی ہیں کہ ہم حیران رہ جاتے ہیں۔

انسانی ذہن ایک بے حد حیران کن چیز ہے۔ بظاہر صحت مند انسان اچانک خودکشی کرکے موت کو گلے لگا لیتا ہے جبکہ بظاہر نحیف و نزار شخص 100 سال سے زائد عرصے تک جی کر دنیا کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتا ہے۔

اگر غور کیا جائے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے تو اس کے پسِ پردہ ہمیں انسانی ذہن اور اس میں تیرتے ہوئے خیالات نظر آتے ہیں۔ یہی خیالات انسانی زندگی کو ترتیب دیتے ہیں اور اسے مثبت یا منفی رُخ عطا کرتے ہیں۔

دُنیا بھر میں بلکہ صرف پاکستان میں ہی بے شمار ایسے ایسے لوگوں نے خودکشی کرکے اپنی زندگی ختم کر لی جن کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ ایسا کوئی قدم اٹھا سکتے ہیں جبکہ بعض اوقات معذور بھی تندرست و توانا اشخاص کیلئے امید کی کرن ثابت ہوئے۔

یہ ذہنی صحت کا اہم ترین نکتہ ہے کہ صحت کی یہ قسم انسانی سوچ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ اگر سوچ بہتر ہوجائے تو موت کی طرف جاتے ہوئے لوگ زندگی کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ 

یومِ ذہنی صحت پر عالمی اداروں کا پیغام

اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ صحت (ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن)، گلوبل مینٹل ہیلتھ اور ورلڈ فیڈریشن نے آج عالمی یومِ ذہنی صحت کے حوالے سے ایک اہم پیغام جاری کیا ہے۔

تینوں عالمی اداروں کے پیغام کے مطابق ذہنی صحت عوامی صحت کا سب سے نظر انداز کیا جانے والا حصہ ہے۔ دُنیا بھر میں کم و بیش 7 ارب 80 کروڑ انسان بستے ہیں  جن میں سے 1 ارب کے قریب لوگ کسی نہ کسی ذہنی بیماری میں مبتلا ہیں۔

عالمی اداروں کے پیغام کے مطابق ہر سال 30 لاکھ افراد ذہنی خلفشار سے نجات کا ذریعہ سمجھی جانے والی الکوحل یا شراب کے نقصان دہ استعمال کے باعث مر جاتے ہیں۔ ہر 40 سیکنڈ میں دُنیا بھر میں کوئی 1 شخص خودکشی کر لیتا ہے اور آج کل کورونا وائرس کی وباء دُنیا کے کم و بیش ہر ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔

پیغام کے مطابق کورونا وائرس کی وباء نے بھی انسان کی ذہنی صحت پر بے حد مضر اثرات مرتب کیے ہیں۔ دُنیا کے بے شمار افراد ایسے ہیں جو ذہنی صحت اور علاج معالجے کی معیاری خدمات تک رسائی نہیں رکھتے۔

اداروں کے مطابق کم آمدنی رکھنے والے پسماندہ ممالک میں ذہنی مسائل کا شکار اور نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا 75 فیصد افراد کو علاج معالجے کیلئے سہولیات کی مد میں کچھ دستیاب نہیں۔ دنیا بھر میں صنفی و نسلی امتیاز، تکلیف دہ قانون سازی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ذہنی بیماریوں کو ہوا دینے والے دیگر مسائل ہیں۔ 

دماغی صحت کے اعدادوشمار 

ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے اعدادوشمارکا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ذہنی مسائل اور نفسیاتی بیماریاں دنیا بھر کی بیماریوں کا 10 فیصد ہیں جبکہ اگر صرف غیر مہلک بیماریوں سے موازنہ کیا جائے تو یہ شرح 30 فیصد تک جا پہنچتی ہے۔

بچوں اور بالغ افراد میں سے دُنیا بھر میں ہر 5 میں سے 1 شخص یعنی کم و بیش 20 فیصد افراد کسی نہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہیں۔ معذوری کا سبب ذہنی دباؤ بھی ہوتا ہے جس میں دنیا بھر کے 26 کروڑ 40 لاکھ افراد مبتلا ہیں۔

انسانی زندگی میں بچپن کا دور بے حد اہم ہوتا ہے اور دُنیا بھر کی تقریباً 50 فیصد ذہنی بیماریاں 14 سال کی عمر سے پہلے ہی انسان کو دبوچ لیتی ہیں۔ ہر سال 8 لاکھ افراد خودکشی کرلیتے ہیں۔ 15 سے 29 سال کی عمر تک خودکشی دُنیا بھر میں موت کا دوسرا بڑا سبب ہے۔

عام افراد کے مقابلے میں شدید ذہنی امراض اور دماغی مسائل کا شکار افراد اپنی طبعی موت سے کم و بیش 10 سے 20سال پہلے ہی جان کی بازی ہار کر اِس دُنیائے فانی سے رخصت ہوجاتے ہیں۔

علاج معالجے کیلئےکم آمدنی رکھنے والے ممالک میں ہر 1 لاکھ پر 2 سے بھی کم اور امیر ممالک میں 70 سے زائد محکمۂ صحت کے کارکنان دستیاب ہوتے ہیں جو ان کی دیکھ بھال کرسکیں۔ 1 لاکھ پر 70 افراد کا مطلب ہے 10 ہزار افراد کیلئے صرف 7 ڈاکٹرز یا طبی عملہ۔

صرف ذہنی دباؤ اور بے چینی (انزائٹی) کے باعث دُنیا بھر میں ہر سال 1 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے یعنی 1 ہزار ارب ڈالرز، اور کیوں نہ ہو؟ انسان اچھا کام اُسی وقت کرسکتا ہے جب وہ کسی بے چینی یا دباؤ سے آزاد رہ کر کام کرسکے۔ 

ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

عموماً ہم جسمانی صحت کیلئے تو طرح طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہیں اور رنگا رنگ دوائیں کھاتے ہیں، انجکشنز لگواتے ہیں اور آپریشنز کی تکلیف تک برداشت کرتے ہیں لیکن ذہنی صحت کو بدقسمتی سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی۔

طبی ماہرین کے مطابق دماغ بھی ہمارے جسم کا ہی ایک حصہ ہوتا ہے جس پر چوٹ کے ساتھ ساتھ دباؤ، خیالات، واہمے اور وسوسے اثر انداز ہوتے ہیں۔

دینِ اسلام میں بھی انسانی سوچ اور خیالات کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ حدیثِ نبوی ﷺ انما الاعمال بالنیات  کے مطابق اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔

نیت کیا ہے؟ یہ ہمارا وہ خیال ہے جو ہم کسی بھی کام سے پہلے اپنے ذہن میں لاتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ذہنی صحت کیلئے اپنے خیالات پر قابو رکھنے کے ساتھ ساتھ کسی ماہرِ امراض سے بھی ضرور مشورہ کریں اور اگر ضروری ہو تو علاج بھی کرائیں۔ یہی تمام تر نفسیاتی عوارض کا اہم حل ثابت ہوسکتا ہے۔ 

Related Posts