پاکستان سمیت دنیا بھر میں ڈائٹنگ کے خلاف نو ڈائٹ کا عالمی دن منایا جارہا ہے جس کے دوران بدن کو اعتدال پر رکھنے کے فطری تقاضوں پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
سوال یہ ہے کہ بعض لوگوں کو اسمارٹ نظر آنے کے لیے ڈائٹنگ ضروری کیوں لگتی ہے اور اگر ہم ڈائٹنگ کو غیر ضروری سمجھ لیں تو موٹاپے سے بچنے کے دیگر طریقے کیا ہیں؟
نوڈائٹنگ ڈے منانے کا مقصد
عالمی نو ڈائٹ ڈے ایک سالانہ دن ہے جو جسم کی قبولیت اور چربی زدہ اجسام کو ڈائٹنگ کی تکلیف سے بچانے کے لیے بدن کو تمام تر تنوع کے ساتھ قبول کرنے کا درس دیتا ہے۔
نو ڈائٹ ڈے منانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ اپنے جسم کو کسی بھی حجم کے ساتھ قبول کریں اور اپنائیں جبکہ یہ دن منانے کا فیصلہ ڈائٹنگ کے منفی اثرات کے پیشِ نظر کیا گیا۔
یہ دن منانے والے افراد کی اکثریت یہ یقین رکھتی ہے کہ دائٹنگ سے آپ اپنے جسم کا صرف 10 فیصد حصہ کم کرسکتے ہیں جبکہ ایک سال کے اندر آپ کا 2 تہائی کم کیا ہوا وزن واپس آجاتا ہے۔
دن منانے والے لوگ سمجھتے ہیں کہ 5 سال کے اندر اندر انسانی جسم پر ایسے فطری اثرات مرتب ہوتے ہیں جو ڈائٹنگ کے دوران کی گئی تمام تر محنت پر پانی پھیر دیتے ہیں۔
عالمی نو ڈائتنگ ڈے کی تاریخ اور فیمنزم
سب سے پہلے نو ڈائٹنگ ڈے برطانیہ میں سن 1992ء میں منایا گیا جبکہ ابتداء میں یہ دن منانے والوں کی اکثریت فیمنزم پر یقین رکھتی تھی۔
فیمنزم سے مراد خواتین کے یکساں حقوق پر یقین رکھنے والے لوگ ہیں جو اسلام سمیت کسی بھی مذہب کے قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مردوزن کو ایک ہی ترازو سے تولنا چاہتے ہیں۔
مثال کے طور پر اسلام نے مردوزن کے الگ الگ حقوق متعین کیے ہیں۔ خواتین و حضرات کے لیے ستر کے اصول الگ ہیں اور لباس پہننے اور اوڑھنے کے طریقے مختلف ہیں۔
اس کے مقابلے میں فیمنزم کے ماننے والے خواتین کو مردوں جیسے کپڑے پہننے کا حق دینے پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ مردوزن میں کسی بھی سطح پر کوئی بھی فرق نہیں ہونا چاہئے۔
برطانیہ کے بعد امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، اسرائیل، ڈنمارک، سویڈن اور برازیل کے فیمنزم پر یقین رکھنے والے افراد نے سب سے پہلے نو ڈائٹ ڈے کو ترویج دی۔
یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ نو ڈائٹ ڈے دراصل ایک ایسا ہی عالمی دن ہے جیسا کہ فیمنزم کا تصور، کیونکہ فیمنزم اور نو ڈائٹ ڈے دونوں ہی فطرت کے نام پر غیر فطری باتوں کا درس دیتے ہیں۔
فطرت کے نام پر غیر فطری باتیں
فطرت کا تصور کسی بھی مشرقی معاشرے کے نزدیک وہ نہیں ہے جو مغرب میں پایاجاتا ہے۔ مغرب زدہ ذہن مادر پدر آزادی کو بھی فطرت کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔
مثال کے طور پر جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے جسم پر کوئی لباس نہیں ہوتا۔ اس سے مغربی معاشرے میں یہ تصور گھڑ لیا گیا کہ بے لباس رہنا دراصل ایک فطری لباس کی صورت ہے۔
اگر ہم فیمنزم کی بات کریں تو فطری طور پر مرد اور عورت میں چونکہ جسم کے علاوہ کوئی فرق نہیں ہوتا، سب کی ہی دو آنکھیں، دو کان اور ایک ناک ہوتی ہے، اس لیے حقوق میں تخصیص کیسی؟
اس کے مقابلے میں اسلام سمیت دیگر مذاہب کارویہ مختلف ہے۔ مردوزن کے جسمانی تقاضے اور زندگی گزارنے کے طریقے مختلف ہوتے ہیں۔ اس لیے حقوق کا تعین تو ضرور مختلف ہے، لیکن مجموعی اعتبار سے دیکھا جائے تو دونوں میں کوئی فرق نہیں۔
شدت پسندی اور اعتدال کا راستہ
نو ڈائٹ ڈے منانے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کچھ وقت کے لیے بھوکا رہنے کے اصول کی مخالفت کر رہے ہیں جس میں کسی نہ کسی سطح پر روزے کو بھی شامل کیاجاسکتا ہے۔
مغربی معاشرہ یہاں دو انتہاؤں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف کے لوگ کہتے ہیں کہ ڈائٹنگ ہر ایک کو کرنی چاہئے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دبلے لوگ نحیف و نزار بن کر زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔
دوسری جانب کے نو ڈائٹنگ ڈے منانے والے کہتے ہیں کہ ڈائٹنگ کا نام بھی نہ لیا جائے۔ اس سے موٹاپا ایک فطری سچائی بن کر سامنے آجاتا ہے جسے قبول کرنا اور اپنانا چاہئے جو غلط ہے۔
معتدل تصور یہ ہے کہ موٹاپے کو بیماری سمجھا جائے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے ڈائٹنگ کے ساتھ ساتھ متوازن غذا کے اصولوں کی پیروی ضروری ہے۔شدّت پسندی نہیں ہونی چاہئے۔
روزہ اور نو ڈائٹنگ ڈے
رواں برس نو ڈائٹنگ ڈے رمضان المبارک کے دوران آیا ہے جبکہ رمضان المبارک کے روزوں کو ڈائٹنگ سے نہیں جوڑا جاسکتا۔ روزہ ایک عبادت ہے جو اللہ کی رضا کیلئے کی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی انسان کو اس کا اجر دوں گا۔ رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت قرآنِ پاک کے احکامات سے ثابت ہے۔
حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ جنت میں روزہ داروں کے لیے ایک دروازہ مخصوص کردیا گیا ہے جس کا نام باب الریان ہے جہاں سے ایسے لوگ داخل نہیں ہوسکیں گے جو روزہ نہیں رکھتے۔
رمضان المبارک کے روزوں کو نفلی روزوں کے مقابلے میں زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ رمضان کی آمد کے ساتھ دوزخ کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔
آج کے روز جو لوگ نو ڈائٹنگ ڈے منا رہے ہیں، ان کے لیے ضروری ہے کہ روزے کے دوران بھی کچھ نہ کچھ کھا کر مغرب زدہ لوگوں کو یقین دلائیں کہ وہ ڈائٹنگ نہیں کر رہے۔
اسلام میں روزے کی اہمیت ایک فرض سے بڑھ کر ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ روزے کو اسلام کے پانچ بنیادی اصولوں میں شامل کر لیا گیا جبکہ نو ڈائٹنگ ڈے اس کے خلاف ہے۔