پاکستان سمیت دُنیا بھر میں نوجوانوں کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے جبکہ ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں بے روزگاری اور جہالت اکیسویں صدی میں بھی نوجوانوں کے اہم ترین مسائل ہیں۔
عالمی ادارے اقوامِ متحدہ کے تحت ہر سال نوجوانوں کا عالمی دن اِس عہد کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ نوجوان نسل کو تعلیم دے کر عالمِ انسانیت کا مستقبل سنوارا جائے گا جبکہ نوجوان نسل کی تعمیرِ نو کے حوالے سے شعوروآگہی بیدار کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے، پہلے کبھی نہیں تھی۔
بے روزگاری اور جہالت کے باعث دنیا بھر کے نوجوان مختلف جرائم، غیراخلاقی سرگرمیوں اور پریشان کن عادات میں مبتلا نظر آتے ہیں جس سے عالمِ انسانیت کا مستقبل تباہی و بربادی کے خطرات سے دوچار ہے۔ رواں برس عالمی یومِ نوجوانان کا موضوع نوجوانوں کی عالمی ایکشن میں شمولیت رکھا گیا ہے۔
موضوع کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ مقامی، قومی اور عالمی سطح پر نوجوان نسل بے شمار اداروں کیلئے بیش بہا خدمات سرانجام دیتی نظر آتی ہے۔ نوجوان نسل کو سیاست و ثقافت سمیت ہر عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے اور جہالت پر قابو پانے کیلئے علمی عمل کا حصہ بننا چاہئے۔
سن 2030ء کے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے آج اقوامِ متحدہ کے پاس صرف 10 سال بچے ہیں جبکہ عالمی سطح پر گورننس کا نظام لاقانونیت اور غیر ضروری سیاسی عوامل کا شکار ہے۔ شام اور میانمار سمیت جہاں جہاں انسانیت خون آشام جرائم کے نتیجے میں خاک و خون میں آلود نظر آتی ہے،وہاں نوجوان نسل کی صلاحیتوں کا نیا امتحان درپیش ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ کے نوجوان نے سوزوکی پردھاک بٹھا دی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








