سرمایہ کاروں کو شکست، عوام کا امیدوار جیت گیا! جانیں نو منتخب میئر نیو یارک ظہران ممدانی کون ہیں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

نیویارک میئر کے الیکشن میں نئی تاریخ رقم ہوگئی جہاں ایک مسلمان امیدوار ظہران ممدانی میئر منتخب ہوگئے۔امریکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کم عمر اور کسی مسلمان امیدوار نے یہ عہدہ حاصل کیا ہے۔ 34 سالہ ظہران ممدانی نے اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق 49.6 فی صد ووٹ حاصل کیے ان کے حریف سابق نیویارک گورنر اینڈریو کوومو نے 41.6 فی صد ووٹ حاصل کیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلن مسک جیسے بڑے بزنس ٹائیکون نے کھل کر مسلم امیدوار ظہران ممدانی کی مخالف کی جبکہ ٹرمپ نے ان کے میئر بننے پر وفاقی فنڈز بھی محدود کرنے کی دھمکیاں دی تاہم نیویارک کی عوام نے ممدانی کی قیادت میں امریکی سرمایہ کاروں کو بد ترین شکست سے دوچار کیا جبکہ گزشتہ روز انتخابات میں 1969 کے بعد میئر کے انتخابات میں سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ریکارڈ کیا گیا۔

ظہران ممدانی کون ہیں؟

ظہران ممدانی 18 اکتوبر 1991یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں پیدا ہوئے اور سات سال کی عمر میں اپنے خاندان کے ساتھ نیویارک منتقل ہوگئے۔انہوں نے برانکس ہائی اسکول آف سائنس سے تعلیم حاصل کی اور بوڈوئن کالج سے افریقن اسٹڈیز میں ڈگری لی۔ وہ فلسطینی حقوق کی تنظیم اسٹوڈنٹس فار جسٹس ان فلسطین کے شریک بانی بھی رہے۔

ممدانی کی والدہ مشہور فلم ساز میرا نائر ہیں اور والد پروفیسر محمود ممدانی کولمبیا یونیورسٹی میں استاد ہیں۔ ان کی اہلیہ رامہ دواجی شام سے تعلق رکھنے والی ایک آرٹسٹ ہیں۔

All About Zohran Mamdani's Parents, Dad Mahmood Mamdani and Mom Mira Nair

سیاست میں آنے سے قبل ممدانی نے ہاؤسنگ کونسلر کے طور پر کام کیا اور غریب خاندانوں کو بے دخلی سے بچانے میں مدد دی۔ وہ خود کو عوام کا امیدوار قرار دیتے ہیں اور اکثر اپنی مسلم شناخت اور جنوبی ایشیائی پس منظر کو فخر سے ظاہر کرتے ہیں۔

سیاست کا آغاز

انہوں نے نیویارک کی مقامی سیاست میں بطور رضاکار کام شروع کیا۔ 2017 میں وہ ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکہ میں شامل ہوئے اور مختلف امیدواروں کی مہمات میں حصہ لیا۔

2020 میں انہوں نے پہلی بار انتخاب لڑا اور پانچ بار جیتنے والی موجودہ رکن آراویلا سموٹاس کو شکست دی۔ انہیں 2022 اور 2024 کے انتخابات میں بغیر مقابلے کے دوبارہ منتخب کیا گیا۔

نومنتخب میئر نیو یارک ممدانی اس سے قبل2021 سے نیویارک اسٹیٹ اسمبلی کے رکن رہے جہاں انہوں نے کویئنز کے علاقے اسٹوریا کی نمائندگی کی۔انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں اردو اور ہسپانوی زبان میں ویڈیوز جاری کیں حتیٰ کہ ایک ویڈیو میں بولی وڈ مناظر بھی شامل کیے۔ رمضان کے دوران انہوں نے میٹرو میں روزہ افطار کر کے عوامی مشکلات کی طرف توجہ دلائی۔

Related Posts