ایران نے 22 نومبر 2025 سے بھارتی شہریوں کے لیے ویزا فری انٹری کی سہولت ختم کردی۔ اس فیصلے کی بنیادی وجہ بھارتی شہریوں کی جانب سے مبینہ طور پر بڑھتی ہوئی مجرمانہ سرگرمیاں، جعلی روزگار کے جھانسے اور تاوان کے لیے اغوا کے واقعات بتائی گئی ہے۔
ایرانی حکومت کے مطابق بھارت نے ویزا فری سہولت کا بے جا استعمال کیا۔ جعلی ایجنٹوں کے ذریعے ایران پہنچنے والے بھارتی شہریوں کو وہاں کے جرائم پیشہ گروہ غیر قانونی سرگرمیوں، اسمگلنگ، منی لانڈرنگ اور بعض معاملات میں دہشت گرد نیٹ ورکس تک استعمال کرتے رہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ بہت سے بھارتی شہری جھوٹے بہانوں سے ایران میں داخل ہوئے اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی۔
اس کے علاوہ ایران کے مفادات پر بھارت کے اندر حملے، سوشل میڈیا پر ایران مخالف پروپیگنڈا اور بھارتی حلقوں میں ایران مخالف بیانیہ بھی دوطرفہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کا سبب بنا۔ ایران کا واضح مؤقف ہے کہ بھارتی شہریوں کی یہ مشکوک سرگرمیاں اس پابندی کا سبب بنیں۔
بھارت کی وزارتِ خارجہ نے بھی ایک نئی ہنگامی ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ کئی بھارتی شہری جعلی روزگار کے لالچ میں ایران گئے، جہاں انہیں بعد میں اغوا کر لیا گیا۔ بھارتی حکومت نے مانا کہ ایسے واقعات اتنے بڑھ گئے کہ ایران یہ سہولت ختم کرنے پر مجبور ہوا۔ یہ وہی سہولت تھی جو ایران نے دوستی کے نام پر بھارت کو خصوصی طور پر فراہم کی تھی، لیکن اس کا غلط استعمال اسے بند کرنے کا باعث بنا۔
ایران کے نئے ضابطوں کے تحت اب کسی بھی بھارتی شہری کو ایران میں داخل ہونے یا ٹرانزٹ کے لیے بھی لازمی ویزا درکار ہوگا۔ ایئرلائنز کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ بغیر ویزا کسی بھارتی مسافر کو بورڈ نہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی جعلی بھارتی ایجنٹوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جو لوگوں کو دھوکے سے ایران بھجوا رہے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








