ایران نے اسرائیل کے جنوبی شہر بیر شیبہ پر میزائل داغے ہیں جنہیں تہران کے حکام نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک محتاط جواب قرار دیا ہے۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق میزائل حملے میں ایک اہم مقام کو براہ راست نشانہ بنایا گیا جس کے باعث عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا اور کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔ اسرائیلی حکام نے چھ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے جن کی حالت معمولی بتائی گئی ہے۔
یہ حملہ اس وقت ہوا ہے جب اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلسل فضائی حملے کیے جا رہے ہیں، جن میں تہران پر رات کے وقت کیے گئے حملے بھی شامل ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے ان حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
ایرانی وزارت دفاع کے مطابق اسرائیل نے اپنے فضائی آپریشن میں 60 سے زائد جنگی طیاروں اور 120 سے زائد بموں کا استعمال کیاجن میں صنعتی زونز کو نشانہ بنایا گیا تاہم ان حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
Iran Massive huge attack Of the City Beersheba Area !
See the condition right now almost finished ❌🖐️ #Khamenei #IsraeliranWar #IsraelIranConflict #IranVsIsrael #IranIsrael #Iran pic.twitter.com/JbWAR1n16z
— Ashish Singh (@AshishSinghKiJi) June 20, 2025
ایرانی حکام نے ان حملوں کو غیر اعلانیہ اور غیر قانونی جارحیت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کا جوابی حملہ دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ اسرائیل کو مزید حملوں سے باز رکھا جا سکے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ میزائل حملہ نہایت احتیاط کے ساتھ صرف فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔
بیر شیبہ میں میزائل گرنے کے بعد ایمرجنسی سروسز فوراً حرکت میں آئیں، علاقے میں آگ بھڑک اٹھی اور شمالی ریلوے اسٹیشن کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا۔ حکام نے شہریوں کو متاثرہ علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت دی ہے۔
ایران نے غزہ میں اسرائیلی حملوں کی بھی شدید مذمت کی ہے، جہاں آدھی رات کے بعد سے اب تک 34 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ان میں سے 23 افراد کو نیتسارم کاریڈور کے قریب امداد حاصل کرنے کی کوشش کے دوران گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








