ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو ایرانی میڈیا

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کو ملک کے مشرقی علاقے میں ’ہارڈ لینڈنگ‘ (بہ الفاظِ دیگر حادثہ ہوا) کرنا پڑی ہے۔ ایران کے سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق یہ واقعہ اتوار کو پیش آیا تاہم ابھی تک اس کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایران کے وزیر داخلہ احمد واحدی کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ’کانوائے میں شامل صدر ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کی ہارڈ لینڈنگ ہوئی ہے۔‘

انہوں نے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ ’موسم خراب ہونے کی وجہ سے ریسکیو ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے۔‘ ابراہیم رئیسی ایران کی مشرقی سرحد سے متصل آذربائیجان کے صوبے میں سفر کر رہے تھے۔ یہ علاقہ ایرانی دارالحکومت تہران سے لگ بھگ 600 کلومٹر فاصلے پر واقع ہے۔

اتوار کی صبح صدر ابراہیم رئیسی نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے ساتھ ایک ڈیم کا افتتاح کیا تھا۔ یہ ان دونوں ممالک کی جانب مشترکہ طور پر دریائے اراس پر تعمیرکردہ تیسرا ڈیم ہے۔

ایران کے پاس کئی قسم کے ہیلی کاپٹرز ہیں لیکن بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے اس کے لیے ان کے پرزوں کا حصول مشکل ہے۔ ایران کے زیر استعمال بیش تر فوجی ہیلی کاپٹرز بھی 1979 کے اسلامی انقلاب سے پہلے کے ہیں۔

ایران کے 63 سالہ سخت گیر نظریات کے حامل صدر ابراہیم رئیسی اس عہدے سے قبل عدلیہ کے سربراہ تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے حمایت یافتہ ہیں اور ممکنہ طور پر ان کے جانشین بھی ہو سکتے ہیں۔

Related Posts