اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ کارروائی جسے آپریشن رورنگ لائین (یا شیر کی دھاڑ) کا نام دیا گیا ہے نے ایران کے متعدد شہروں اور فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے تاہم اس ویرانی کے بیچ سے ایک ایسی آواز سامنے آئی ہے جس نے دونوں ممالک کو فکر میں ڈال دیا ہے۔ یہ آواز ایران کی طاقتور فوج آئی آر جی سی (اسلامی انقلابی گارڈ کور) کے سینئر کمانڈر ابراہیم جباری کی ہے جو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتہائی قابل اعتماد محافظوں میں شمار ہوتے تھے۔
ابراہیم جباری نے امریکہ کو براہ راست پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اب تک جو میزائل فائر کیے گئے وہ ایران کے پرانے اور بنیادی اسٹاک سے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے ابھی تک اپنی اصل طاقت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ جلد ہی ایسے ہتھیار سامنے آئیں گے جو دنیا نے کبھی نہیں دیکھے اور جو دشمن کے ریڈار سسٹم کے لیے پکڑنا تقریباً ناممکن ہوگا۔ اس بیان سے تاثر ملتا ہے کہ ایران نے اپنے جدید ترین ہائپرسونک (hypersonic) اور دیگر انتہائی تیز رفتار میزائلوں کو اب تک چھپا رکھا ہے جو جنگ کی سمت بدل سکتے ہیں۔
ابراهیم جباری کون ہیں؟
جباری ایران کی انقلابی گارڈز میں ایک اعلیٰ رینک کے کمانڈر ہیں اور فی الحال آئی آر جی سی کے کمانڈر ان چیف کے سینئر مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ سپریم لیڈر کو براہ راست رپورٹ کرتے ہیں اور فوجی حلقوں میں بہت احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ انہوں نے طویل عرصے تک ایران کی سیکیورٹی پالیسیوں، خصوصی آپریشنز اور دفاعی حکمت عملیوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
ان کی سب سے نمایاں شناخت یہ ہے کہ وہ برسوں تک سپاہ حفاظت ولی امر (ولی امر پروٹیکشن کور) کے سربراہ رہے۔ یہ ایران کا سب سے خفیہ اور خصوصی یونٹ ہے جو سپریم لیڈر کی ذاتی حفاظت کا ذمہ دار ہے۔ اس یونٹ کی وجہ سے جباری کو سپریم لیڈر کے سائے کی طرح سمجھا جاتا تھا اور وہ ان کے خفیہ بنکروں، راستوں اور محفوظ مقامات سے بخوبی واقف ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی حکمت عملی نے ماضی میں سپریم لیڈر کی حفاظت میں اہم کردار ادا کیا۔
جباری ایران-عراق جنگ کے تجربہ کار بھی ہیں اور گوریلا جنگ، میزائل پروگرام اور زیر زمین تنصیبات (میزائل سٹی کہلانے والے خفیہ ڈپوؤں) کی تیاری میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کی قیادت میں ایران نے اپنے میزائل نیٹ ورک کو مزید مضبوط اور پوشیدہ بنایا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ بمباری سے ایران کی فوجی قیادت اور تنصیبات کو بھاری جھٹکا لگا ہے مگر جباری کی دھمکی سے یہ واضح ہے کہ ایران ابھی مکمل طور پر کمزور نہیں ہوا اور وہ مزید شدید جواب دینے کی تیاری میں ہے۔ دنیا اب یہ دیکھ رہی ہے کہ آیا یہ خفیہ ہتھیار واقعی جنگ کا رخ موڑ سکتے ہیں یا یہ محض نفسیاتی دباؤ کا حربہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








