بغداد: عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہزاروں افراد حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے میں شریک ہوئے جبکہ سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مظاہرے میں شریک ایک شخص ہلاک اور 200زخمی ہوگئے۔
میڈیارپورٹس کے مطابق بغداد کے تحریر چوک میں گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں مظاہرین کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوگیا اور وہ حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ان مظاہروں میں نسلی اور فرقہ وار پہچان سے ہٹ کر عراقی شہری شرکت کررہے ہیں اور ان کی بدولت اس احتجاجی تحریک نے بھی زور پکڑا ہے۔
اطلاعات کے مطابق مظاہرین دن کے آغاز میں پْرامن ہوتے ہیں لیکن وہ پولیس کی جانب سے اشک آور گیس یا آتشیں اسلحہ کے استعمال کے بعد مشتعل ہوجاتے ہیں۔ قلعہ نما گرین زون سے شہر کو ملانے والے دریائے دجلہ کے جمہوریہ پل کے آس پاس پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عراق بھر میں احتجاجی مظاہروں کے ردعمل میں پارلیمان کے چار ارکان مستعفی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








