کیا حزب اللہ اسرائیل کیخلاف جنگ میں شامل ہو رہی ہے؟ حسن نصر اللہ نے کیا کہا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے بعد پہلے عوامی خطاب میں کہا ہے کہ ہم نہ جھکیں گے اور نہ کسی کے دباؤ میں آئیں گے، غزہ میں جاری جنگ کا ذمہ دار امریکا ہے، اسرائیل مذاکرات کرکے اپنے قیدی واپس لے سکتا ہے۔ عرب اور مسلم ممالک کو غزہ میں جنگ روکنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔

حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ کے شہدا کو سلام پیش کرتا ہوں، اسرائیل کے حملوں میں ہزاروں شہری شہید ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کیلئے جاری جنگ کا دائرہ طویل ہوگیا ہے، مسجد اقصیٰ کیلئے جنگ میں مزید محاذ کھل گئے ہیں۔

اسرائیلی جارحیت سے 50 ہزار حاملہ خواتین اور 50 ہزار نوزائیدہ بچوں کی زندگیاں خطرے میں

سربراہ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ ہم نہ جھکیں گے اور نہ کسی کے دباؤ میں آئیں گے، ہمیں شہدا کےاہل خانہ کےعزم اور ہمت پر فخر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہادت ہماری طاقت ہے جس پر ہمیں فخر ہے، اس بات پر بھی فخر ہے کہ عراقی اور یمنی براہ راست جنگ میں شامل ہوچکے۔

فلسطین کے چھپے ہوئے دشمن سامنے آگئے

حسن نصر اللہ نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں اسرائیل کی مذمت کی جارہی ہے، حماس کا حملہ فلسطین کے چھپے ہوئے دشمنوں کو سامنے لے آیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی اسرائیل کی قید میں ہیں، طوفان الاقصیٰ آپریشن صرف فلسطین اور فلسطینیوں کیلئے تھا، اس آپریشن نے بہت سی چیزوں کو بےنقاب کر دیا ہے، دنیا نے اسرائیلی مظالم پر مجرمانہ طور پر آنکھیں بند کرلی ہیں، امریکا اسرائیل کی پوری طرح مدد کر رہا ہے، اسرائیل کےخلاف جنگ حق کی جنگ ہے۔

اسرائیل کمزور ہے

سربراہ حزب اللہ کا کہنا تھا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اسرائیل کی حماقت اور نااہلی کا عکاس ہے، کیونکہ وہ بچوں اور خواتین کو قتل کر رہا ہے۔

حزب اللہ کے رہنما نے اسرائیل کو ”کمزور“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پورے ایک مہینے تک وہ ایک بھی کامیابی حاصل نہیں کرسکا، اسرائیل مذاکرات کے ذریعے غزہ میں قید اپنے لوگوں کو واپس لا سکتا ہے۔

غزہ جنگ کے دو مقاصد

حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک فیصلہ کن جنگ ہے، یہ پچھلی جنگوں کی طرح نہیں ہے۔ اس کے لیے ہر ایک کو ذمہ داری قبول کرنے کی ضرورت ہے۔

حسن نصراللہ نے دو مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلا غزہ میں جنگ کو روکنا اور دوسرا حماس کو اس جنگ میں فتح حاصل کرنا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ اپنی کارروائیوں میں روز بروز اضافہ کر رہی ہے اور اسرائیل کو مجبور کر رہی ہے کہ وہ غزہ یا مقبوضہ مغربی کنارے کے بجائے لبنان کی سرحد کے قریب اپنی افواج رکھے۔

حزب اللہ کے اسرائیلی فوج پر یکے بعد دیگر 19 حملے

دوسری طرف لبنان اسرائیل سرحد پر شدید لڑائی جاری ہے۔ حسن نصر اللہ کی تقریر کے موقع پر حزب اللہ نے تین ہفتوں سے زائد عرصے کی لڑائی میں اب تک کا سب سے بڑا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر بیک وقت 19 حملے کیے اور پہلی بار دھماکہ خیز ڈرونز کا استعمال کیا۔

Related Posts