ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری احتجاج اب ایک سنگین بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں حکومت مخالف مظاہرین اور حکومت کے حامی گروہوں کے درمیان سڑکوں پر شدید جھڑپیں ہو رہی ہیں۔
تہران اور دیگر شہروں میں پرتشدد تصادم کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد غیر مصدقہ ہے، تاہم رپورٹس کے مطابق یہ تعداد سیکڑوں تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 2600 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
حکومتی کریک ڈاؤن کے باوجود مظاہرین نے ہفتے کی رات بھی احتجاج جاری رکھا۔ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے حالیہ دنوں میں سینکڑوں افراد ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
مظاہرین بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہیں اور ریاستی تشدد کو چیلنج کر رہے ہیں۔ متعدد علاقوں میں سڑکیں خون سے لتھڑی ہوئی دکھائی دیں جبکہ اسپتالوں میں لاشوں پر ماتم کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔
تہران کے جنوبی علاقے کہریز میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ لندن میں قائم خبر رساں ادارے ایران انٹرنیشنل کے مطابق 400 افراد ہلاک جبکہ 100 سے زائد مسلح افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ملک کے دفاع کو “ریڈ لائن” قرار دیتے ہوئے عوامی املاک اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی فوج نے بھی عوام اور سرکاری تنصیبات کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
ایران میں یہ احتجاج گزشتہ سال 28 دسمبر کو شروع ہوا تھا، جبکہ 8 جنوری کے بعد سے انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند ہے، جس کے باعث مظاہرین اور میڈیا دونوں کی رسائی شدید متاثر ہوئی ہے۔
ایران کے سابق شاہ کے جلاوطن بیٹے رضا شاہ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ حکومت لاکھوں مظاہرین کا سامنا کرنے کی صلاحیت کھو چکی ہے اور کئی نوجوان سیکیورٹی اہلکار عوام پر فائرنگ سے انکار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق صرف چند پرتشدد عناصر ہی اب بھی خامنہ ای کے ساتھ کھڑے ہیں۔
ایران کی صورتحال پر عالمی برادری گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آپشنز، بشمول غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کے امکان، پر بھی بریفنگ دی گئی۔ تاہم امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے ایران پر حملے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا اقدام غیر قانونی ہوگا اور اسے کانگریس کی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔

ایران میں جاری احتجاج پر دنیا بھر میں ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ لندن میں ایرانی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کیا گیا، جہاں مظاہرین نے سرکاری پرچم اتار کر انقلابِ ایران سے پہلے کا پرچم لہرا دیا۔ اس موقع پر پولیس نے دو افراد کو گرفتار کیا جبکہ تیسرے کی تلاش جاری ہے۔
کینیڈا میں بھی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف مظاہرے کیے گئے ہیں۔
ایرانی حکومت اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خانہ جنگی کے خدشات کو جنم دے رہی ہے، جبکہ عالمی برادری اس بحران پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








